نئے آئی جی سندھ اور کراچی کا امن
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-03-2
صوبہ سندھ میں پولیس کے سربراہ کی تبدیلی ایک معمولی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ اس سنگین اور خوف ناک صورتحال کا اعتراف ہے جس سے صوبہ بالخصوص کراچی دوچار ہے۔ نئے آئی جی سندھ کا تقرر اس پس منظر میں ہوا ہے جہاں لاقانونیت، اسٹریٹ کرائم اور منظم جرائم میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار خود بول رہے ہیں کہ رواں برس کے گیارہ ماہ میں ہزاروں شہری لٹ چکے ہیں اور پانچ سو سے زائد جانیں جرائم کی نذر ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس نے شہریوں کے ذہنوں میں خوف، عدم تحفظ اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔ پولیس آپریشنز، اسنیپ چیکنگ اور مبینہ مقابلوں کے باوجود جرائم کا بڑھنا اس امر کی دلیل ہے کہ مسئلہ محض نفری یا وسائل کا نہیں بلکہ حکمت ِ عملی، نگرانی اور احتساب کا ہے۔ اغواء برائے تاوان اور بھتا خوری جیسے جرائم کا دوبارہ سر اٹھانا ایک خطرناک اشارہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے۔ اگر یہاں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ سرمایہ کار عدم تحفظ کے ماحول میں قدم نہیں رکھتے اور کاروبار خوف کے سائے میں پھل پھول نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے آئی جی کے لیے سب سے بڑا چیلنج شہریوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا، جو محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے ممکن ہے۔ اسی تناظر میں کراچی میں ٹریفک کے مسائل اور سخت جرمانوں کا معاملہ بھی عوامی غم و غصے کا سبب بنا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بلاشبہ ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن قانون کا نفاذ اگر شفاف نہ ہو تو وہ خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ شہریوں کی شکایات ہیں کہ بغیر ثبوت چالان، من مانی اور رشوت کا کلچر قانون کی ساکھ کو مجروح کر رہا ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کی جانب سے عوامی سطح پر مزاحمت اور اصلاحی مطالبات نے ایک اہم بحث کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں کچھ فیصلوں پر نظرثانی بھی کی گئی۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف جرمانوں سے نظم و ضبط قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے تربیت، آگاہی اور انصاف پر مبنی نظام ضروری ہے۔ شہری اگر قانون کو اپنا محافظ سمجھیں گے تو وہ خود اس کی پاسداری کریں گے۔ پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی تربیت، احتساب اور نگرانی کے بغیر کوئی بھی اصلاحی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نئے آئی جی سندھ کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے۔ اگر وہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر، میرٹ اور پیشہ ورانہ اصولوں پر کام کریں تو کراچی ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پرانی روش برقرار رہی تو تبدیلی محض کاغذی کارروائی ثابت ہوگی۔ شہری اب وعدوں کے نہیں، نتائج کے منتظر ہیں۔ کراچی کو امن، انصاف اور نظم و ضبط کی اشد ضرورت ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب قانون نافذ کرنے والے اور قانون ماننے والے، دونوں اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے سمجھیں۔ یہی راستہ ایک مہذب، محفوظ اور ترقی یافتہ شہر کی طرف جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔