data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-03-4
روزینہ خورشید
ربّ العالمین نے گردش لیل و نہار میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں رکھی ہیں۔ موسموں کا بدلنا، دن اور رات کا آنا جانا یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ ’’ثبات صرف تغیر کو ہے زمانے میں‘‘۔ 21 ویں صدی کا چوتھائی حصہ یعنی 2025 بھی ہم سے رخصت ہونے کو ہے اور نیا سال 2026 ہماری زندگیوں میں دستک دینے کو تیار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سال مہینوں میں، مہینے ہفتوں میں، اور ہفتے دنوں میں گزر رہے ہیں۔ بلاشبہ وقت بہت تیز گزر رہا ہے لیکن صرف کیلنڈر کی حد تک کیونکہ لوگوں کی حقیقی زندگی میں نہ تو مسائل میں کمی ہوئی ہے اور نہ ہی وسائل میں اضافہ ان کی ترقی کا پہیہ جہاں تھا وہیں رکا ہوا ہے۔ مہنگائی میں ہوش رُبا اضافے نے تنخواہ دار طبقے کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ وہ تو بس رات دن اسی گھن چکر میں پھنسے رہتے ہیں کہ راشن پورا کریں یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کریں، بچوں کے اسکولوں کی فیسیں دیں، گھر کا کرایہ دیں یا تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے خریدیں۔ وہ اپنے ان مسائل سے نپٹیں تو کسی اور طرف توجہ دینے کے لائق ہوں۔ 2025 میں بھی ان کے یہی مسائل تھے، 2026 میں بھی یہی رہیں گے کیونکہ ہمارے ملک میں تنخواہ دار طبقے کی حالت نہ کبھی سدھری ہے نہ سدھرے گی۔ دوسری طرف بے روزگاری کے ستائے ہوئے نوجوان ہیں جو پروفیشنل ڈگری حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے حصول میں ناکام رہتے ہیں وجہ…؟ وہی اقربا پروری، سیاسی پشت پناہی اور رشوت کا نظام۔ ایسے میں ذہین اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد فرسٹریشن کا شکار ہو کر ملک کو ہی خیرباد کہہ رہی ہے، یوں ہمارے ہاں ’’برین ڈرین‘‘ کا عمل تیزی سے جاری ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2023 میں 8 لاکھ سے زائد جبکہ 2024 میں 7 لاکھ سے زائد نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں دیار غیر کے باسی بن گئے۔ صحت عامہ کے مسائل بھی ہمارے ہاں جوں کے توں ہیں خصوصاً ربیز کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک ہے کیونکہ رواں سال بھی کتوں کے کاٹنے کی ویکسین اسپتالوں میں دستیاب نہ ہو سکی اور نہ ہی ان آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کی بابت کوئی مناسب اقدامات کیے گئے۔ کراچی میں تعلیم کے شعبے میں بھی مافیاز سرگرم ہیں میٹرک یا انٹر کے رزلٹ ہوں یا ایم ڈی کیٹ کا نتیجہ…! طالب علموں اور والدین کے لیے مسلسل ذہنی پریشانی اور دباؤ کا باعث بنے رہے ہیں۔ بہت سے طالب علموں کی زبانی معلوم ہوا کہ میٹرک اور انٹر بورڈ میں پیسے لے کر نمبر بڑھانے کا رواج بھی عام ہو چکا ہے۔ (شاعر سے معذرت کے ساتھ)
جانے کب ہوں گے کم
طالب علموں کے غم
پڑھنے والوں پہ صدا
بے جرم و خطا
ہوتے رہے ہیں ستم
جانے کب ہوں گے کم
کہتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ سال 2026 کچھ نئے تعلیمی اصلاحات لے کر آئے گا جس کے نتیجے میں تعلیم جیسے مقدس شعبے میں موجود کالی بھیڑوں سے والدین اور طلبہ کی جان چھوٹ سکے گی۔ سال 2025 میں کراچی کی سڑکوں پر دندناتے ڈمپرز نے جہاں لوگوں سے ان کے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا وہیں کھلے مین ہول اور اسٹریٹ کرائم نے بھی معصوم لوگوں کو اپنا شکار بنایا۔ اس کے علاوہ ملک میں موجود سیاسی عدم استحکام نے بھی امن و امان کی صورتحال کو (خاص کر صوبہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا) خراب کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
پیارا وطن پاکستان جو کہ ربّ العالمین نے ہمیں بہترین نعمت کی صورت میں عطا کیا ہے۔ اس کا شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے کہ نعمت کی قدر کی جائے ورنہ نعمتیں سلب کر لی جاتی ہیں۔ اللہ پاک نے وطن عزیز کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے جن میں بہترین مادی وسائل کے ساتھ ساتھ بہترین افرادی قوت اور بہترین فوج بھی شامل ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ خطہ زمین دنیا کے نقشے پر بہت اہمیت کا حامل ہے لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ نئے سال میں پرانے مسائل سے جان چھڑایا جائے تو صرف ایک قوم بن کر اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تبھی آنے والا سال ہمارے لیے خوشیوں کا پیامبر بن سکتا ہے ورنہ صرف کیلنڈر تبدیل کرنے کا نام ترقی اور خوشحالی نہیں ہوتی۔ بہ زبان شاعر
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
تو نیا ہے، تو دکھا صبح نئی، شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔