شفاف الیکشن کے بغیر معیشت، امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہوسکتی، مولانا عبدالغفور
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
شرقپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راہنما جے یو آئی نے کہا کہ حکمرانوں نے پے رول پر کچھ علماء رکھے ہوئے ہیں جن کو بلا کر خطاب کیا جاتا ہے، پنجاب حکومت علماء کو وظیفہ دینا چاہ رہی ہے لیکن لینے والا کوئی نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ شفاف الیکشن کے بغیر ملک میں معیشت اور امن و امان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ شرقپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راہنما جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکمرانوں نے پے رول پر کچھ علماء رکھے ہوئے ہیں جن کو بلا کر خطاب کیا جاتا ہے، پنجاب حکومت علماء کو وظیفہ دینا چاہ رہی ہے لیکن لینے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے اقتدار میں آنے کیلئے 75 سالوں میں اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ نہیں ملایا نہ ملائیں گے، جب سے پاکستان بنا ہے نالائق اور نااہل ٹولہ اقتدار میں ہے، حکمرانوں نے ملکی اثاثے بیچ کر اور نئے قرضے لے کر معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان میں 75 سالوں سے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، پاکستان میں 35 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ راہنما جے یو آئی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا استحکام افغانستان کے استحکام سے مشروط ہے، اچھے طالبان اور برے طالبان کا علم نہیں، ہم تو صرف ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حامی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا عبدالغفور نے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔