پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-08-10
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی میں من پسند ٹھیکیداروں کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ 2022.23ء میں پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی فیصل آباد میں ٹھیکیداروں کی جانب سے21 ملین روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا۔ ٹھیکیدار پارکنگ اور جانوروں پر ٹیکس کے ٹھیکے کی مکمل ادائیگی کے بغیر ہی غائب ہو گئے۔ 58 ملین روپے کے ٹھیکہ حاصل کرنے کے بعد12 ملین روپے ادا کرکے فرار ہو گئے۔کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ 14 ملین روپے میں دینا پڑا۔ دوبارہ ٹھیکہ دینے سے کمپنی کو 21 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ کمپنی نے ٹھیکیداروں کی عدم ادائیگی پر ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کی اور نہ ہی کمپنی نے رقم کی وصولی کے لیے کسی قسم کے اقدامات کیے۔ کمپنی نے ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ بھی نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملین روپے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔