چیئرمین سی ڈی اے کا شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت )چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ((سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ اور مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا۔ ایک بیان میں چیئرمین سی ڈی اے کو متعلقہ افسران نے منصوبے سے کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا ترقیاتی کام کامیابی کے ساتھ مقررہ مدت سے قبل اپنے تکمیلی مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور مجموعی طور پر شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا 95 فیصد سے زائد ترقیاتی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے کو بتایا گیا کہ منصوبے کے انڈر پاس کا اسٹرکچرل ورک مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اس منصوبہ کی فنشنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔بریفنگ دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا کہ منصوبے کو خوبصورت بنانے کی لیے اس کے اطراف دیدہ زیب لینڈ اسکیپنگ اور ہارٹیکلچر کا کام تیزی سے جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا سی ڈی اے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔