data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251229-11-18
لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے صوبہ پنجاب میں کم عمر بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں کے دوران کم عمر بچوں سے زیادتی کے 5761 واقعات رپورٹ ہونا ایک خوفناک اور لرزہ خیز حقیقت ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور حکومتی بے حسی کو واضح کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث ایک ہزار سے زائد مجرمان کا آزاد گھومنا ریاستی نظامِ انصاف پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات کسی ایک علاقے یا شہر تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے صوبے میں یہ ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پولیس کی ناقص تفتیش، مقدمات میں تاخیر اور مجرمان کو سیاسی و بااثر عناصر کی پشت پناہی ایسے جرائم میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اور ادارے صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، عملی سطح پر ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف سزا کافی نہیں، بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ آگاہی مہمات چلائی جائیں، والدین اور بچوں کو تحفظ، رپورٹنگ اور قانونی حقوق سے آگاہ کیا جائے۔ پولیس اور تفتیشی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ مجرمان کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ بچوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے زیادتی کے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا