Jasarat News:
2026-06-02@23:51:37 GMT

ڈہرکی:خسرہ اور چکن پاکس پھیلنے سے مزید 3 معصوم چل بسے

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251229-11-19
ڈھرکی( نمائندہ جسارت)ڈھرکی سمیت ضلع بھر کے بیشتر علاقوں میں “خسرہ” اور “چکن پاکس” جیسی مہلک اور پھیلنے والی متعدی بیماریوں کی وباء علاقوں بھر میں بری طرح سے پھیل گئی ہے۔ جس کے ایک اور واقع میں مذید”3″ معصوم بچوں کی زندگیوں کے “چراغ” خسرہ کی اس مہلک وباء کا شکار ہو کر ہلاک ہو جانے ساتھ ہی ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد “5” گئی ہے۔ اور مذید 10 سے زائد بچے ان موزی مہلک بیماری کا شکار ہوئے پڑے ہیں۔ غربت اور مہنگائی کے مارے غریب والدین شدید پریشان۔ اور ایگزیکٹو اور ہیلتھ انتظامیہ غائب۔ ان 3 تینوں بچوں کی افسوسناک ہلاکتوں کا واقع ڈھرکی کے نواحی علاقے کھینچو بنگلہ تھانہ کے نزدیکی گاؤں فیض محمد مھر میں خطرناک متعدی بیماری “خسرہ” بری طرح پھیل گئی جس کی زد میں آ کر “دو” روز ہی میں گاؤں کے رہائشی بچے جن میں بسم اللہ مھر ، بچی حضوراں اور عامر علی مھر نامی 3 بچے ہلاک اور 10 سے زائد بچے اس بیماری کے شدید شکار ہیں جن میں سے متعدد بچوں کی بھی حالت انتہائی تشویشناک بتلائی جاتی ہے۔ متاثرہ گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں اس خطرناک بیماری کے تدارک کے لئیے محکمہ اور متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی بھی فوری اور خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں جس کی وجہ سے علاوہ کے مکینوں میں شدید تشویش ناک پریشانی پھیلی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں چند ہفتے قبل بھی اس خطرناک بیماری کے شکار ہو کر “2” معصوم بچوں کی افسوسناک ہلاکتوں کا واقع گاؤں نبی بخش لاکھو میں پیش آیا تھا جس میں ایک ہی گھر کے 2 بچے جو آپس میں بہن اور بھائی ہیں جس میں 6 سالہ عاطف اور 4 سالہ بچی ایمان کے نامی بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ادھر اس تازہ واقع میں متاثرہ علاقے میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ گاؤں کے دیہاتیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اطلاع کے باوجود تا حال ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو انتظامیہ اور محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں نا پہنچ سکیں۔ جس کی وجہ سے خسرہ اور چکن پاکس جیسی مہلک بیماری سے مذید متاثرہ بچوں کے غریب والدین اور دیگر علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت مہنگے ، مہنگے علاج معالجہ سے دو چار ہو ، ہو کر شدید پریشان ہو رہے ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بچوں کی

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟