لاہور کے جیلانی پارک میں گلِ داؤدی کی رنگا رنگ بہار
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی جیلانی پارک میں گلِ داؤدی کی شاندار نمائش جاری ہے، جہاں قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے شہری بڑی تعداد میں شرکت کررہے ہیں۔
پارک کی فضا رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو سے مہک اُٹھی ہے اور باغوں کے اس شہر میں رنگ، خوشبو اور خوبصورتی کا حسین امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔
رنگا رنگ پھول دل کو سکون اور ٹھنڈک بخشتے ہیں۔ پھول دراصل قدرت کا ایک خوبصورت تحفہ ہیں جو ماحول میں تازگی اور خوشگوار احساس پیدا کرتے ہیں۔
نمائش میں نیلے، پیلے، ہرے، لال، گلابی، سفید اور دیگر رنگوں کے 200 سے زیادہ اقسام کے گلِ داؤدی رکھے گئے ہیں۔
نمائش میں پھولوں سے سجی ہوئی بیگیز، ونٹر کارنر اور سیلفی پوائنٹس بھی شہریوں کی توجہ کا خاص مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں لوگ خوبصورت لمحات کو کیمرے میں قید کررہے ہیں۔ مزید جانیے طارق بن نواز کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جیلانی پارک گل داؤدی موسم بہار نمائش وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیلانی پارک گل داؤدی موسم بہار وی نیوز
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔