اسٹیل مل، ریلوے اور قومی ائیرلائن تباہ ہے، نجکاری تمام مسائل کا حل ہے، ایمل ولی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ اے این پی کا کہنا تھا کہ حکومتی ادارے جس کام کیلئے بنے ہیں وہی کام کریں، ریاست پاکستان ازسرنو جائزہ لے کر نجکاری کے عمل کو شفاف بنائے۔ افغانیوں کو لانا نہیں چاہیے تھا، لایا تو بھیجنا نہیں چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ نجکاری تمام مسائل کا حل ہے، حکومت حاکمیت کرے کاروبار نہیں۔ پشاور میں جلسے سے خطاب میں ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ غلام بلور نیشنل پارٹی میں تھا ہے اور رہے گا، عوامی نیشنل پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی مگر نہیں ہوئی۔ انہوں نے نجکاری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری تمام مسائل کا حل ہے، حکومت حاکمیت کرے کاروبار نہیں، پاکستان اسٹیل ملز، ریلوے، قومی ائیرلائن تباہ ہے، نجکاری سے ملک کو مزید ٹیکس ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری بھی شفاف ہونی چاہیے، غیرشفاف نجکاری قبول نہیں، 140 کاروبار سے ٹیکس وصول نہیں کیا جارہا۔
ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ حکومتی ادارے جس کام کیلئے بنے ہیں وہی کام کریں، ریاست پاکستان ازسرنو جائزہ لے کر نجکاری کے عمل کو شفاف بنائے۔ افغانیوں کو لانا نہیں چاہیے تھا، لایا تو بھیجنا نہیں چاہیے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کردی گئی اور عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیر لائن کو 135 ارب روپے میں خرید لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نہیں چاہیے ایمل ولی
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔