نئی شادی شدہ خاتون نے ہنی مون سے واپسی پر خودکشی کیوں کی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
بنگلورو میں 26 سالہ نئی شادی شدہ خاتون گنوی (رشا) نے مبینہ طور پر دباؤ اور ہراسانی کے باعث خودکشی کرلی۔ وہ رامامورتی نگر کے بی چنناسندرا کی رہائشی تھیں۔
پولیس کے مطابق گنوی کو بدھ کے روز ان کے والدین کے گھر میں پھانسی لگے ہوئے پایا گیا۔ انہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن جمعرات کی رات دورانِ علاج وہ چل بسیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اہلِ خانہ کو سونپ دی گئی۔
مزید پڑھیں: نوبیاہتا جوڑے کا دلخراش انجام: بیوی کے بعد شوہر نے 1000 کلومیٹر دور جاکر خودکشی کر لی
گنوی کے والد ششی کمار آر نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ ان کی بیٹی کو شادی کے بعد سے ہی ہراسانی اور جہیز کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سسرال نے تقریبِ ولیمہ کے لیے 23 نومبر کو پیلس گراؤنڈز میں تقریب منعقد کرنے پر خاندان پر قریباً 40 لاکھ روپے خرچ کرنے کا دباؤ ڈالا۔
گنوی اور شوہر سراج نے حال ہی میں سری لنکا کا 10 روزہ ہنی مون کیا، جس دوران مبینہ ہراسانی جاری رہی۔ ذہنی دباؤ کے باعث گنوی نے ہنی مون مختصر کرکے 21 دسمبر کو بنگلورو واپس آ کر والدین کے گھر قیام کیا۔ سراج اور اس کے اہلِ خانہ اس وقت غائب ہیں اور پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی: واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟
رامامورتی نگر پولیس نے والد کی شکایت پر سراج اور اس کے اہلِخانہ کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی اور موت کے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلورو بھارت خودکشی دلہن نئی شادی شدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلورو بھارت دلہن کے لیے
پڑھیں:
سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
ہر سال 24 جولائی کو دنیا بھر میں سیلف کیئر ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا روزمرہ کی دیگر ذمے داریوں کو نبھانا۔ اس تاریخ کا انتخاب بھی ایک خاص پیغام دیتا ہے کہ انسان کو اپنی دیکھ بھال دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق خود سے محبت اور اپنی ضروریات کو نظرانداز نہ کرنا ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہر روز اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے، تاہم سیلف کیئر ڈے اس عزم کی تجدید کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی اور ذہنی فلاح کو بھی ترجیح دیں۔
خود کو وقت دیجئے
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے مخصوص کریں، چاہے وہ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران اپنی پسند کی سرگرمی اختیار کریں، جیسے کوئی کتاب پڑھنا، پسندیدہ ویب سیریز دیکھنا، چہل قدمی کرنا یا خاموش ماحول میں وقت گزارنا۔ اس معمول سے ذہنی سکون میں اضافہ اور روزمرہ کی تھکن میں کمی آ سکتی ہے۔
متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک
غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا بھی خود کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور اناج پر مشتمل غذا نہ صرف جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ توانائی میں اضافہ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
جسمانی سرگرمیوں کےلیے وقت نکالیے
جسمانی سرگرمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش یا ہلکی پھلکی جسمانی مشقت نہ صرف جسمانی فٹنس اور قوتِ برداشت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اگر روزانہ ورزش ممکن نہ ہو تو کم از کم اس دن کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور نکالیں۔
مناسب اور پرسکون نیند لیجئے
مناسب اور پرسکون نیند کو بھی اچھی صحت کی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق معیاری نیند جسم کو بحال کرنے، دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور روزمرہ کی تھکن دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے معمول کو بہتر بنانا بھی سیلف کیئر کا اہم حصہ ہے۔
مراقبہ اور یوگا کی مشقیں
ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور یوگا جیسی سرگرمیاں بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی مشقیں ذہنی یکسوئی پیدا کرنے، اضطراب کم کرنے اور انسان کو زیادہ پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کسی عیش و آرام کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے مستقل معمول کا حصہ بنا کر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔