پنجاب پروٹیکشن اونر شپ ایکٹ: معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے کیا؟ لاہور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان نے پنجاب پروٹیکشن اونر شپ ایکٹ کے متعلق درخواست پر ریمارکس دیئے کہ کیا اس معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے؟
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کے خلاف آئینی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس فیصل زمان خان نے درخواست چھٹیوں کے بعد متعلقہ بینچ کے روبرو لگانے کی ہدایت کردی۔
دورانِ سماعت جسٹس فیصل زمان خان نے وکیل اظہر صدیق سے کہا کہ کیا اس معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے، اتنی ٹرولنگ کے باوجود عدالت نے اس معاملے کو اٹھایا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان بگٹی قبائل کے نئے چیف نامزد، دستار بندی آج ہوگی
جسٹس فیصل زمان خان نے مزید کہا کہ آپ نے دو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کو لے کر درخواست دائر کی، کیا ان ایم پی ایز نے اسمبلی میں اس ایکٹ کے خلاف تقریر کی؟ یہ اسمبلی میں تو بولے نہیں اور یہاں درخواست دائر کردی۔
عدالت نے کہا کہ آپ نے اپنی پٹیشن فیس بک پر بھی لگا دی ہے، اس معاملے کو سیاست زدہ نہ کریں، یہ معاملہ غریب شہریوں کی پراپرٹیوں کا ہے، آپ اس درخواست کے ذریعے حکومت کوفائدہ دے رہے ہیں؟
عدالت نے درخواست دائر کرنے والے وکیل اظہر صدیق سے مزید کہا کہ آپ کو اپنی درخواست کو واپس لینا چاہئے، آپ کسی متاثرہ شخص کی جانب سے درخواست دائر کرتے تو سمجھ آتی، آپ کی اس درخواست پر بہت افسوس ہوا۔
مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور برفباری کی پیشگوئی
اظہر صدیق کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جائیداد سے متعلق اختیارات انتظامیہ کو دے کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی، ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی میں فریقین کو وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں۔
پی ٹی آئی کے اراکین نے درخواست میں کہا ہے کہ سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کرنا آئین سے متصادم اقدام ہے، ایگزیکٹو اور عدالتی اختیارات کو یکجا کرنا عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے، استدعا کی گئی ہے کہ پراپرٹی اونرشپ ایکٹ اور اس کے تحت ہونے والے اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس فیصل زمان خان نے درخواست دائر اس معاملے کو کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔