کشمیریوں کو ہراساں کرنا قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، سجاد شاہین
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
نیشنل کانفرنس کے سینیئر لیڈر کہا کہ مذہبی نفرت کے باعث کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے کشمیری خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے ممبر اسمبلی بانہال و نیشنل کانفرنس کے سینیئر لیڈر سجاد شاہین نے بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کے خلاف پیش آنے والے فرقہ وارانہ واقعات کو ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ ممبر اسمبلی بانہال اپنے حلقہ کے بنکوٹ، بانہال میں آبپاشی کی ایک نہر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ انہوں کہا کہ مذہبی نفرت کے باعث ایک طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے کشمیری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ سجاد شاہین نے حکومتِ ہند، بالخصوص بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر دفاع سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بیروں ریاست کے وزرائے اعلیٰ سے تحریری طور پر اس قسم کے واقعات کو فوری طور پر روکنے کی گزارش بھی کی ہے۔ سجاد شاہین نے بیرونی ریاستوں میں مقیم کشمیری کاروباری اور طلبا کو احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے اپنی پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر ہر بخش سنگھ نے بھی ایک معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فکسڈ میچ ہے کیونکہ جن لیڈروں نے آج "ہاؤس اریسٹ" ہونے کا ڈھونگ رچایا ہے وہ لیڈر اپنے اپنے مقامات پر بھی ریزرویشن کے معاملے پر بات کر سکتے تھے کیونکہ یہ سیاسی نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اگر اس مسئلے پر آغا سید روح اللہ پارلیمنٹ میں یا اپنی پارٹی کے اندر بات کر سکتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سجاد شاہین کہا کہ بات کر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔