پشاور: داودزئی میں بڑا پولیس آپریشن، پانچ انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلرز مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پشاور کے علاقے داودزئی میں پولیس اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان شدید فائرنگ کے بعد بڑا پولیس آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا، جس کے دوران پانچ انتہائی خطرناک اور مطلوب ٹارگٹ کلرز ہلاک ہو گئے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور دیگر اضلاع کی پولیس کو متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے اور طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، تاہم ملزمان کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رات کی تاریکی کے باعث آپریشن کو مشکلات درپیش رہیں، مگر پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔
آپریشن کے دوران پولیس کی بھاری نفری نے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے، جبکہ کسی بھی مشتبہ شخص کو فرار ہونے کا موقع نہ دینے کے لیے سخت نگرانی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ملزمان کی مکمل شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔