Express News:
2026-07-24@06:03:32 GMT

بی جے پی رہنما کا متنازع بیان، بھارت میں مسلم مخالف نفرت پھر بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

بھارت میں بی جے پی کے سینئر رہنما سوویندو ادھیکاری کے مسلمانوں سے متعلق بیان نے شدید سیاسی اور سماجی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔

کولکتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر خطاب کرتے ہوئے سوویندو ادھیکاری نے ایسا بیان دیا جسے متعدد حلقوں نے نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ادھیکاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح اسرائیل نے غزہ میں کارروائی کی، بھارت کو بھی اسی طرز پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس بیان کے بعد سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق حکمراں جماعت کی مخالف ترنمول کانگریس نے اس بیان کو “برہنہ نفرت انگیز تقریر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجتماعی تشدد اور نسل کشی کی کھلی ترغیب کے مترادف ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بیانات پر فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں

مساجد کو مندر بنانے والے مودی کے منہ پر طمانچہ؛ سکھ خاتون نے مسجد کیلیے زمین دیدی

آسام میں زمین کے تنازع پر خونریز احتجاج، مودی حکومت پر سنگین الزامات

آسام میں مودی سرکار کا ظلم بے نقاب، قبائلی حقوق مانگنے پر پولیس کی فائرنگ، 2 شہری ہلاک

دریں اثنا انڈیا ہیٹ لیب کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد صرف 10 دنوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے کم از کم 64 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جس سے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سوویندو ادھیکاری کا بیان محض ایک فرد کی رائے نہیں بلکہ بی جے پی کے ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کو اکثر اندرونی دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی مثال دے کر تشدد کو درست ثابت کرنے کی کوشش بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کو معمول بنانے کے مترادف ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسے بیانات پر ریاستی سطح پر خاموشی برقرار رہی تو ملک میں اقلیتوں کو لاحق خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی دور میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں پہلے ہی عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM بھارت میں

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان