Express News:
2026-06-02@22:29:51 GMT

بی جے پی رہنما کا متنازع بیان، بھارت میں مسلم مخالف نفرت پھر بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

بھارت میں بی جے پی کے سینئر رہنما سوویندو ادھیکاری کے مسلمانوں سے متعلق بیان نے شدید سیاسی اور سماجی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔

کولکتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر خطاب کرتے ہوئے سوویندو ادھیکاری نے ایسا بیان دیا جسے متعدد حلقوں نے نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ادھیکاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح اسرائیل نے غزہ میں کارروائی کی، بھارت کو بھی اسی طرز پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس بیان کے بعد سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق حکمراں جماعت کی مخالف ترنمول کانگریس نے اس بیان کو “برہنہ نفرت انگیز تقریر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجتماعی تشدد اور نسل کشی کی کھلی ترغیب کے مترادف ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بیانات پر فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں

مساجد کو مندر بنانے والے مودی کے منہ پر طمانچہ؛ سکھ خاتون نے مسجد کیلیے زمین دیدی

آسام میں زمین کے تنازع پر خونریز احتجاج، مودی حکومت پر سنگین الزامات

آسام میں مودی سرکار کا ظلم بے نقاب، قبائلی حقوق مانگنے پر پولیس کی فائرنگ، 2 شہری ہلاک

دریں اثنا انڈیا ہیٹ لیب کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد صرف 10 دنوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے کم از کم 64 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جس سے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سوویندو ادھیکاری کا بیان محض ایک فرد کی رائے نہیں بلکہ بی جے پی کے ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کو اکثر اندرونی دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی مثال دے کر تشدد کو درست ثابت کرنے کی کوشش بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کو معمول بنانے کے مترادف ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسے بیانات پر ریاستی سطح پر خاموشی برقرار رہی تو ملک میں اقلیتوں کو لاحق خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی دور میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں پہلے ہی عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM بھارت میں

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں