کراچی: یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کا حملہ، ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
کراچی سٹی کورٹ میں وکلا نے یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کیا، اور اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔
نجی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ پیر کو اس وقت پیش آیا جب رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ رجب بٹ اپنی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئے، لیکن سماعت کے دوران ماحول کشیدہ ہو گیا، اور کچھ وکلاء نے ان پر حملہ کر دیا۔
رجب بٹ کے وکلاء نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، مگر وکلاء نہ صرف ان پر تشدد کرتے رہے بلکہ انہیں کمرہ عدالت سے باہر بھی نکال دیا گیا۔ اس موقع پر ٹک ٹاکر ندیم مبارک (نانی والا) بھی موجود تھے، جو کئی مقدمات میں قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ دونوں سوشل میڈیا انفلوئنسرز 10 دسمبر کو لندن سے پاکستان واپس آئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں کو ان کے رشتہ داروں کی درخواست پر 10 روزہ حفاظتی ضمانت دی تھی۔
یاد رہے کہ رجب بٹ کے خلاف حیدری تھانے میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہے اور وہ عبوری ضمانت پر ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے رجب بٹ کی عبوری ضمانت 13 جنوری تک بڑھا دی۔
رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ عدالت کے احاطے میں وکلاء نے ان کے موکل پر جان لیوا حملہ کیا، جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کا یہ غیر پیشہ ورانہ رویہ ملک بھر میں وکلاء کی ساکھ کو کمزور کر رہا ہے۔
وکیل نے مزید کہا کہ اگر وکلاء عدالتی احاطے میں پرائیوٹ سائلین پر حملے جاری رکھیں گے تو یہ ان کی عزت اور پیشہ ورانہ ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوگا، اور ایسے رویے کسی پڑھے لکھے معاشرے میں قابل قبول نہیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا رجب بٹ کے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔