خواتین مخالف غیراخلاقی پوسٹس کیس: اتنی خطرناک صورتحال ہے تو پھر بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے: جسٹس جمال مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
جسٹس جمال مندوخیل—فائل فوٹو
سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف غیر اخلاقی پوسٹس لگانے کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اتنی خطرناک صورتِ حال ہے تو پھر بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف غیر اخلاقی پوسٹس لگانے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
دوران سماعت مدعی کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ملزم طیب ڈار کا پھیلایا گیا مواد سوشل میڈیا پر موجود ہے، خواتین کے حوالے سے لگائی جانے والی پوسٹیں عدالت میں پڑھ بھی نہیں سکتا۔
اسلام آباد سپریم کورٹ کے جج ،مسٹر جسٹس جمال خان.
ملزم کے وکیل نے کہا کہ بیٹے نے فیس بک پر پوسٹس لگائیں، بیٹا کچھ کرے تو باپ کے خلاف کیس نہیں بن سکتا، باپ کے نام کی سِم بیٹا استعمال کر رہا تھا۔
مدعی کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ تحقیقات کے مطابق باپ بیٹے دونوں موبائل استعمال کرتے تھے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنی خطرناک صورتِ حال ہے تو پھر بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔ ایسا جرم ہوگا تو سختی سے دیکھنا ہوگا، ایسے کسی کی عزتیں نہیں اچھالنی چاہئیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا ملزم کو کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے نمبر سے بکواسیات ہو رہی ہیں، سارے دستاویزی شواہد ملزم طیب ڈار کے خلاف ہیں۔
مدعی کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ملزم طیب ڈار کے حوالے سے مزید دستاویزات بھی لگانا چاہتے ہیں۔
عدالت نے دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔