مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان مخصوص ذہنیت کی علامت ہے: اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی نشانی ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جب انہیں اطلاع ملی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اسمبلی میں آنا چاہتے ہیں تو خوشی ہوئی، لیکن ان کے ساتھ ایسے افراد بھی ایوان میں آئے جن کے نام تک ہمارے پاس نہیں تھے۔
ملک احمد خان نے مزید کہا کہ جب ان افراد کے نام لسٹوں میں چیک کیے گئے تو وہ دھکے دینے لگے۔ اسپیکر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور دورے کے حوالے سے بھی کہا کہ پنجاب اسمبلی کا ہر عمل قانون کے تابع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی میں داخلے کے لیے اجازت نامہ یا کم از کم شناختی کارڈ ضروری ہے اور سیکیورٹی کے معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔