وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچ بچیوں کو خودکُش بمبار بنانے کی تربیت دے رہی ہیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔
کراچی میں اے آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان اور کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ضیا لنجار نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک ایسی بچی کو بچا لیا جو دہشتگردوں کی ذہن سازی کا نشانہ بنی تھی۔ دہشتگردوں نے اس بچی کو خودکُش بمبار بننے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کی بروقت نشاندہی کے باعث وہ محفوظ رہی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردوں کا بیانیہ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے اور وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کے خلاف غلط معلومات پھیلا کر نوجوانوں کو اپنے منصوبوں کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست بلوچ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان نے بتایا کہ بی ایل اے کے اہلکار نے انسٹاگرام پر بچی سے رابطہ کیا، اسے واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا اور ریاست مخالف بیانیہ بنایا گیا۔ بچی کی مکمل ذہن سازی کی گئی تھی اور اسے کراچی سے باہر لے جایا جا رہا تھا، تاہم سیکیورٹی چیک کے دوران بچی کو بروقت پکڑ لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچی کم عمر ہونے کی وجہ سے قانونی طور پر ملزم نہیں سمجھی جاتی، اور اسے مکمل حفاظتی اقدامات کے تحت پروٹیکشن فراہم کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف