واشنگٹن دوبارہ سے لاطینی امریکہ پر تسلط چاہتا ہے، وینزویلا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں وینزویلا کے رکن پارلیمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ہم سے منہ پھیر لیا تو اس وقت بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے روس اور چین ایک مختلف نقطہ نظر کے ساتھ اس خطے میں داخل ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ وینزویلا کے رکن پارلیمان "گیلبرٹو خیمنز" نے کہا کہ واشنگٹن، دوبارہ لاطینی امریکہ پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ریانووسٹی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر، چین و روس کے توسط سے لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں نمایاں پیشرفت ہوئی۔ جب امریکہ نے ہم سے منہ پھیر لیا تو اس وقت بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے روس اور چین ایک مختلف نقطہ نظر کے ساتھ اس خطے میں داخل ہوئے۔ یہ دونوں ممالک، لاطینی امریکہ میں ترقی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ لاطینی امریکہ کے دونوں ممالک سے تعلقات نہ صرف خودمختاری کے احترام پر مبنی ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر بھی منتج ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے غلط اندازوں کے نتیجے میں، ایک بار پھر واشنگٹن نے اپنی توجہ لاطینی امریکہ کی جانب مبذول کر لی۔ یہ توجہ، ہمیشہ کی طرح امریکی جبر کی پالیسی یعنی جنگی جہازوں اور جارحیت کی صورت میں سامنے آئی۔ واشنگٹن ہمیشہ طاقت کی زبان میں بات کرتا ہے، اپنی مرضی کو اسلحے کے زور اور فوجی نقل و حرکت کے ذریعے مسلط کرنا چاہتا ہے، جو 1990ء کی دہائی میں خلیج فارس کی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاطینی امریکہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ