واشنگٹن میں بھارتی لابنگ بُری ناکام:پاکستان کی سفارتی محاذ پر واضح برتری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بھارت کی جانب سے ملین ڈالرز کی لابنگ کے باوجود پاکستان نے سفارتی میدان میں واضح سبقت حاصل کرلی ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی دارالحکومت میں طاقتور لابنگ نیٹ ورکس، مہنگے کنسلٹنٹس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں تک رسائی کے باوجود بھارت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا جب کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی پوزیشن مضبوط کی بلکہ کئی اہم سفارتی فوائد بھی سمیٹ لیے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں شدید تناؤ کا شکار رہے تھے۔ اس دور میں واشنگٹن کی جانب سے اسلام آباد پر سخت الزامات عائد کیے گئے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ پاکستان امریکی امداد حاصل کرنے کے باوجود دوغلا کردار ادا کرتا رہا اور بعض طالبان گروہوں کو پناہ فراہم کی گئی۔
دی ٹیلیگراف کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں پاکستان نے مؤثر سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف ان الزامات کے اثرات کو کم کیا بلکہ امریکی قیادت کے ساتھ اعتماد کی فضا بھی بحال کرنے میں کامیاب رہا۔
اخبار لکھتا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں نے امریکا میں اپنی بات منوانے کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں۔ دونوں ممالک نے لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کیں اور ٹرمپ کے قریبی حلقوں تک رسائی کی کوشش کی، مگر نتائج کے اعتبار سے اسلام آباد اپنے روایتی حریف پر واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں پاکستان کی پوزیشن زیادہ مؤثر اور قابلِ قبول ثابت ہوئی، جس کے اثرات پالیسی سطح پر بھی نظر آئے۔
دی ٹیلیگراف نے نشاندہی کی کہ پاکستان کو امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات میں دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر ٹیرف شرائط حاصل ہوئیں، جو ایک اہم معاشی کامیابی سمجھی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے فوجی سربراہ اور وزیراعظم کو اوول آفس میں ملاقات کا موقع ملنا بھی غیر معمولی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے واشنگٹن کی جانب سے اعتماد اور تعاون کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے مثبت رویے کے پیچھے ایک اہم عنصر دہشت گردی کے خلاف تعاون رہا۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق پاکستان نے داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ثنااللہ عرف جعفر کی گرفتاری میں امریکا کی مدد کی، جو کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر امریکی فوج کے انخلا کے دوران ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔ اس کارروائی کو واشنگٹن میں نہایت سنجیدگی سے لیا گیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کی بڑی مثال قرار دیا گیا۔
اخبار نے اپریل میں مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے عسکری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
بعد ازاں پاکستان نے فضائی اور زمینی سطح پر بھرپور جواب دیا، تاہم یہ تنازع اس وقت ختم ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ بھارتی حکام نے امریکی ثالثی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، مگر واشنگٹن میں یہ تاثر قائم ہو گیا کہ بحران کے خاتمے میں امریکا کا کردار فیصلہ کن رہا۔
دی ٹیلیگراف کے مطابق بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے اس معاملے پر کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح مؤقف اپنایا ہے کہ بھارت ماضی میں کسی ثالثی کو قبول نہیں کرتا رہا اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقیقت میں واشنگٹن میں دونوں ممالک کے ردِعمل اور طرزِ عمل نے ان کی سفارتی حیثیت پر گہرا اثر ڈالا۔
اخبار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی مہینوں میں کی جانے والی سب سے اہم تقریر میں پاکستان کی حکومت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ اس خطاب میں ثنااللہ عرف جعفر کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، جسے عالمی سفارتی حلقوں میں اسلام آباد کے لیے ایک بڑی اخلاقی اور سیاسی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کے باوجود کے لیے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ