چین اور پاکستان شراکت داری نے باہمی تقدیر کے مستحکم رشتے کو جنم دیا ہے، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
چین اور پاکستان شراکت داری نے باہمی تقدیر کے مستحکم رشتے کو جنم دیا ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)
چین اور پاکستان کی منفرد دوستی اور ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تقدیر کے مستحکم رشتے کو جنم دیا ہے۔
پیر کے روز چینی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں چینی قیادت کی سفارت کاری نے عالمی سطح پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو، جس کا مرکزی تصور انسانی ہم نصیب معاشرے کی تعمیر ہے، نے غیر مستحکم دنیا میں استحکام لایا اور آگے بڑھنے کی سمت عطا کی۔
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کے ساتھ مل کر، یہ تمام انیشی ایٹوز روایتی جغرافیائی سیاسی کھیل سے بالاتر ہو کر مشترکہ مفادات اور پائیدار ترقی پر زور دیتے ہیں، اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے تعاون کا نیا نمونہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمہ موسمی اسٹریٹجک پارٹنرز ہونے کے ناطے، چین اور پاکستان نے واضح طور پر چاروں انیشی ایٹوز کو چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے “پانچ کوریڈورز” کی تعمیر اور پاکستان کے “Es 5” ترقیاتی فریم ورک کے ساتھ گہرائی سے مربوط کر دیا ہے، جو پاکستان کی معاشی بحالی اور عوامی بہبود کی بہتری کو مضبوط قوت فراہم کرے گا۔
بین الاقوامی سطح پر، شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ صدارت کے لیے پاکستان کی حمایت، نیز پاکستان کے 2026- 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ہونے کے موقع کو بنیاد بنا کر، دونوں ممالک کثیرالجہتی فورمز پر ہم آہنگی اور تعاون کو مزید گہرا کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات اور بین الاقوامی انصاف کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ اس سے پاکستان کو عالمی حکمرانی میں اپنی آواز بلند کرنے کا وسیع تر موقع ملےگا ۔ باہمی احترام پر مبنی یہ تعاون، پاکستان کے لیے غیر یقینی دنیا میں مستحکم ترقی حاصل کرنے کا اہم سہارا بن گیا ہے۔
اس کے بعد ٹرمپ کا ذکر ناگزیر ہے: جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کو عالمی نظام کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ “ٹرمپ 2.
2025 میں مشرقِ وسطیٰ بھی عالمی توجہ کا مرکز رہا۔ اسرائیل۔فلسطین تنازع نے سنگین انسانی المیے جنم دیے، جبکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور امریکہ کی ایران پر فوجی کارروائی نے خطے کو خطرناک نئے دور میں داخل کر دیا۔ ان تنازعات نے نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مہاجرین کے بحران کے ذریعے عالمی سطح پرمنفی اثرات بھی مرتب کیے۔ ایک مسلم ملک ہونے کے ناطے، پاکستان کو ان تنازعات میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ چین جیسے ممالک کے ساتھ تعاون مضبوط کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہوگا۔
2025 پاکستان کے لیے یقیناً غیر معمولی سال رہا۔ اسٹریٹجک خودمختاری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ، گزرے سال میں پاکستان کی کارکردگی قابلِ ستائش رہی۔ چیلنجز اور مواقع سے بھرپور اس سال میں دنیا نے پاکستان کو بین الاقوامی معاملات میں زیادہ پختگی کا مظاہرہ کرتے دیکھا۔ پاکستان بھارت سرحدی جھڑپوں کے نتائج سے سب واقف ہیں ۔ ان تنازعات نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے ماحول کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، جس سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور متعلقہ ممالک کو زیادہ دانشمندی دکھانے کی ضرورت ہے۔ 2025 میں پاکستان کا ایک اور اہم لمحہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط تھے، جو علاقائی سلامتی کے ڈھانچے میں اہم موڑ ثابت ہوا اور پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطح کی ” اسٹریٹجک خودمختاری ” کی طرف پیش قدمی کی علامت ہے۔ یہ چین کے پیش کردہ “غیر وابستگی پر مبنی شراکت داری ” کے تصور سے ہم آہنگ ہے اور پاکستان کے لیے نئے ترقیاتی امکانات پیدا کرتا ہے۔
پیچیدہ اور متغیر عالمی ماحول کے باوجود، چین۔پاکستان تعلقات نے غیر معمولی لچک اور توانائی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں ممالک نے 2025 میں “نئے دور میں مزید مضبوط چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کے ایکشن پلان” پر دستخط کیے، جس نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ منصوبہ نہ صرف روایتی سلامتی کے شعبوں پر محیط ہے بلکہ معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت سمیت ہمہ جہتی تعاون تک پھیلا ہوا ہے، جو پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے مضبوط محرک فراہم کرے گا۔
2025 کی عالمی صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ دنیا ایک گہرے تغیر کے دور سے گزر رہی ہے۔غیر یقینی سے بھرپور دنیا میں، چین۔پاکستان کی “فولادی دوستی ” دونوں ممالک کے لیے ہمیشہ ایک قیمتی اسٹریٹجک اثاثہ رہے گی۔ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنا کر پاکستان نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ مستقبل کے عالمی نظام میں اپنی جگہ مضبوط کرنے میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔جیسا کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا، چین۔پاکستان تعلقات “کسی بھی تیسرے فریق کے عنصر سے متاثر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ہوں گے”۔ یہ پختہ عزم پاکستان کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد اسٹریٹجک سہارا فراہم کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی: ضمانت کیلئے عدالت آنے والے یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کا تشدد عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا خواتین کیخلاف نازیبا سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق کیس: جرم کو سختی سے دیکھنا ہوگا، جج سپریم کورٹ کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ آج سے ملک میں داخل ہونے کا امکان، مختلف شہروں میں بارشوں کی پیشگوئی وزیراعلیٰ بلوچستان بگٹی قبائل کے نئے چیف نامزد، دستار بندی آج ہوگی شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیرحاضررہنے والے 6ایف بی آر اہلکار معطلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین اور پاکستان شراکت داری دیا ہے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں