بلوچستان حکومت کا کنٹریکٹ اور ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتیاں ختم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
کوئٹہ (آئی این پی) بلوچستان حکومت نے محکمہ صحت میں کنٹریکٹ اور ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔حکومت بلوچستان نے صحت کے شعبے میں بڑا فیصلہ کرتے ہوءےکنٹریکٹ اور ایڈہاک تعیناتیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، اب ڈاکٹرز اورطبی عملہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقبل بنیادوں پر تعینات ہوں گے۔ محکمہ صحت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر، سینئر رجسٹرار اور اسپیشلسٹ کی کنٹریکٹ ملازمتیں ختم ہوں گی۔ محکمہ صحت نے گریڈ 16 اور 17کی مجموعی طورپر 1003 خالی اسامیوں پر مستقل تعیناتیوں کے لیے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو درخواست بھیج دی ہے،خالی اسامیوں میں 560 میڈیکل افسران، 346 لیڈی میڈیکل افسران اور 97 ڈینٹل سرجن شامل ہیں۔ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ اقدام صحت کے شعبے میں خدمات کی روانی اور معیار کی بہتری کا سبب بنے گا۔بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے تحت مستقل تعیناتیوں کےبعد کنٹریکٹ بنیادوں پرکام کرنے والے ملازمین کی خدمات ختم کر دی جائیں گی،تاہم کنٹریکٹ ملازمین کے لیے ہمدردانہ ایڈجسٹمنٹ پر بھی غور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔