میئر کراچی کا جہانگیر روڈ 2 ماہ میں بنوانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کی بار بار ٹوٹنے والی مرکزی شاہراہ جہانگیر روڈ کو دو ماہ کے اندر ازسرِنو تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے تاخیر کا شکار ترقیاتی منصوبوں پر کھل کر بات کی اور اعتراف کیا کہ ماضی میں ہونے والی کوتاہیوں پر شہریوں سے معذرت خواہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ کے منصوبے سے متعلق مسائل جولائی تک حل کر دیے جائیں گے، جب کہ کریم آباد انڈر پاس کو بھی جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ غلطیوں کو تسلیم کیے بغیر بحیثیت قوم آگے بڑھنا ممکن نہیں، اسی سوچ کے تحت شہریوں کو حقائق سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
میئر کراچی کے مطابق منور چورنگی انڈر پاس جون کے مہینے میں مکمل ہو جائے گا، جب کہ شہر کی مجموعی بہتری کے لیے 46 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے زیر عمل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں نئے پارکس، اربن فارسٹ اور قبرستان قائم کیے جائیں گے، جب کہ قبرستانوں کے لیے درکار زمین وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے منفی پروپیگنڈے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مہم دراصل شہر سے دشمنی کے مترادف ہے، کیونکہ اس کا نقصان کسی ایک فرد یا ادارے کو نہیں بلکہ پورے کراچی کو ہوتا ہے۔
میئر کراچی نے یہ بھی بتایا کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیز اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈزیز کے درمیان شراکت داری کے لیے حکومت کو آمادہ کر لیا گیا تھا، تاہم بعض عناصر کی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت اور سہولت اولین ترجیح ہے اور رکی ہوئی اسکیموں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میئر کراچی کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔