سعودی عرب، حجاج و معتمرین کی خدمت میں کوتاہی، عمرہ کمپنی پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزدیسک) سعودی عرب نے عمرہ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ اپنے فرائض کو دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ادا کریں یہ محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم دینی امانت بھی ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا کہ مقدس مقامات کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے آنے والے مسلمان اللہ کے گھر کا طواف اور رسولِ اکرم ﷺ کی مسجد میں حاضری کے لیے اپنی زندگی کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس لیے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ برداشت ہے۔حجاج و معتمرین کی خدمت اللہ کے مہمانوں کی خدمت ہے اور اس میں کوتاہی دنیا و آخرت دونوں میں جواب دہی کا سبب بن سکتی ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے بتایا کہ کہ معتمرین کو وعدہ کی گئیں خدمات اور سہولیات فراہم نہ کرنے اور عبادت میں خلل کا باعث بننے والی بدانتظامی کا نوٹس لیتے ہوئے ایک عمرہ کمپنی پر پابندی عائد کردی۔
وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مطابق متعدد معتمرین ایسے حالات میں مقدس سرزمین پر پہنچے جہاں ان کے لیے پہلے سے طے شدہ قیام کا کوئی بندوبست موجود نہیں تھا۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے مزید بتایا کہ اس عمرہ کمپنی کے بیرونِ ملک مقیم ایجنٹ کو بھی معطل کردیا اور عازمین کو یقین دلایا ہے کہ اللہ کے مہمانوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عمرہ جیسے عظیم الشان اور روحانی سفر میں سکون، اطمینان اور سہولت بنیادی ضرورت ہے۔ اس سنگین غفلت کو قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری تادیبی اقدامات کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات متاثرہ زائرین کے حقوق کے تحفظ، مستقبل میں ایسی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور عمرہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
وزارت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مملکت ہر حال میں اللہ کے مہمانوں کی عزت، سہولت اور سلامتی کو اولین ترجیح دیتی رہے گی۔
یاد رہے کہ جون کے مہینے میں بھی 7 عمرہ کمپنیوں کو زائرین کے لیے ٹرانسپورٹ سہولیات میں کوتاہی پر معطل کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف جمادی الآخر کے مہینے میں دنیا بھر سے 17 لاکھ سے زائد مسلمان عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔
یہ تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ امتِ مسلمہ کا حرمین شریفین سے روحانی رشتہ کس قدر مضبوط اور گہرا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اللہ کے کہا گیا کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔