بلوچستان حکومت کا قلم چھوڑ ہڑتال پر ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ملازمین کے ہڑتال کے ردعمل میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی بلوچستان کیجانب سے تمام ذمہ داران کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے کہ احتجاج کرنیوالے کے نام بھیجے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی حکومت نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ملازمین کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے سرکاری ملازمین کی تنظیموں پر مشتمل بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر آج سے صوبے میں قلم چھوڑ ہڑتال شروع کر دی گئی ہے۔ جس کے تحت صوبے کے دفاتر میں ملازمین نے احتجاجاً کام کو بند رکھا ہے۔ ہڑتال کے ردعمل میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی بلوچستان کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ، سینئر ایم بی آر، چیئر مین سی ایم آئی ٹی اور صوبے کے تمام محکموں کے سیکرٹریز اور آئی جی پولیس کو ارسال کے گئے مراسلے میں مجاذ حکام نے سرکاری ملازمین کے گرینڈ الائنس کے احتجاج میں حصہ لینے والے تمام ملازمین کے نام اور عہدے فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے میں تفصیلات فوری طور پر جمع کروانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملازمین کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔