اسلام ٹائمز: آج ایک اور عظیم سپوت ابو عبیدہ کی شہادت کی خبر نے اسلام اور جھبۂ مقاومت کو سرخرو کر دیا ہے۔ ہم اس عظیم سانحے پر دنیا کے تمام عاشقانِ مقاومت کی خدمت میں تبریک، تہنیت اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔ خداوندِ متعال تمام شہداء کو شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔ تحریر: محمد حسین بھشتی
قرآن و سنت کی روشنی میں شہادت کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے۔ اسلامِ نابِ محمدیؐ میں جو لوگ اسلام کی سربلندی کے لیے کفار، مشرکین اور منافقین کے مقابلے میں شہید ہو جاتے ہیں، ان کی عظمت و کرامت کا خود خداوندِ متعال گواہ اور شاہد ہے۔ آج کے دور میں جو لوگ عالمِ کفر، امریکہ، اسرائیل وغیرہ کے مقابلے میں فلسطین، لبنان، یمن، عراق، ایران اور دنیا کے مختلف ممالک و علاقوں میں ہر شکل و صورت اور ہر طور طریقے سے نبرد آزما ہیں اور اس راہ میں عظیم لوگوں نے قربانیاں پیش کی ہیں، وہ باعثِ افتخار ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ اصل مسلمان اور مومن ہیں، جن میں ہر دین و مذہب، قوم و قبیلہ اور ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔
تاریخ کے اوراق میں یہ بات ضرور لکھی جائے گی کہ اس عظیم مقاومت کے رہبر و رہنماء، بانیِ انقلابِ اسلامی ایران حضرت امام خمینیؒ تھے اور اس کے تسلسل کو ان کے قائم مقام رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی ذاتِ گرامی نے برقرار رکھا۔ یہ شہادتوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ آج ایک اور عظیم سپوت ابو عبیدہ کی شہادت کی خبر نے اسلام اور جھبۂ مقاومت کو سرخرو کر دیا ہے۔ ہم اس عظیم سانحے پر دنیا کے تمام عاشقانِ مقاومت کی خدمت میں تبریک، تہنیت اور تعزیت پیش کرتے ہیں۔ خداوندِ متعال تمام شہداء کو شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔ "خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔