تفصیلات کے مطابق امارات خطے کے ممالک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے اسرائیل کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، بعض ممالک میں یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے، اور خاص طور پر امارات کا بنیادی اور اسٹریٹجک ہدف سعودی عرب کو تقسیم اور کمزور کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عالم عرب کے بارے میں امارات کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے ایک ریٹائرڈ سعودی کرنل نے غیر معمولی اور بے باک بیانات میں کھل کر کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات خطے میں اسرائیل کا بازو بن چکا ہے اور عربستان سمیت مختلف ممالک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ریٹائرڈ سعودی کرنل جاسم ابو عبدالرحمن نے امارات کے خلاف اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امارات خطے کے ممالک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے اسرائیل کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، بعض ممالک میں یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے، اور خاص طور پر امارات کا بنیادی اور اسٹریٹجک ہدف سعودی عرب کو تقسیم اور کمزور کرنا ہے۔ اس وقت امارات ایک نہایت مکّار اور گندی میڈیا جنگ چلا رہا ہے۔ سوڈان میں اس کی مداخلت مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے اور اب وہ اس کردار سے انکار نہیں کر سکتا۔
  امریکی کانگریس نے اس معاملے پر بات کی ہے اور امارات پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے بھی امارات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، لہٰذا اب امارات یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا کوئی کردار نہیں۔ یہ صرف ہماری بات نہیں ہے، بلکہ خود امریکہ نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے، روبیو نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی ساختہ ہتھیاروں کے ذریعے سوڈانی ریپڈ سپورٹ فورسز (امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہ) کی مدد بند کریں، کیونکہ امارات ان گروہوں کو امریکی ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔
  روبیو کے ان بیانات کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ بھی دارفور اور الفاشر میں ہونے والی نسلی صفائی اور جنگی جرائم میں بالواسطہ شریک ہے، کیونکہ جو بھی ہتھیاروں، مالی مدد یا حتیٰ کہ اخلاقی حمایت کے ذریعے ان گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے، وہ ان جرائم میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت امارات اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ یمن کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے۔

امارات اب خطے میں اسرائیل کے ہاتھوں ایک آلہ بن چکا ہے جو ممالک کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سومالی میں بھی یہی صورتحال ہے۔ امارات نے اسرائیل کے اس اقدام پر کام کیا جس کے تحت شمالی سومالی کے علیحدگی پسند علاقے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا۔ یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں، کیونکہ سوال یہ ہے کہ امارات اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتا ہے؟ جنوبی یمن یا وہ علاقہ جسے وہ خود ’’جنوبی عرب‘‘ کہتے ہیں؟۔ 
  اس معاملے میں انتہائی ہوشیاری کی ضرورت ہے، کیونکہ امارات نے اربوں ڈالر تشہیر پر خرچ کیے ہیں اور حتیٰ کہ مغربی میڈیا کو بھی اس سوچ کی ترویج کے لیے پیسے دیے ہیں۔ کس سوچ کی؟ ممالک کی تقسیم، نئی ریاستوں کے قیام اور علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنے کی سوچ، جیسا کہ صومالی لینڈ کے معاملے میں ہوا اور یہ ممکن ہے کہ یہ سب کچھ اس منصوبے کا پیش خیمہ ہو جو آئندہ جنوبی عرب میں نافذ کیا جانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تقسیم کرنے کے اسرائیل کے کر رہا ہے ممالک کو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف