امارات عرب ممالک کی تقسیم کے منصوبے پر گامزن ہے، ریٹائرڈ سعودی کرنل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
تفصیلات کے مطابق امارات خطے کے ممالک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے اسرائیل کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، بعض ممالک میں یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے، اور خاص طور پر امارات کا بنیادی اور اسٹریٹجک ہدف سعودی عرب کو تقسیم اور کمزور کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عالم عرب کے بارے میں امارات کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے ایک ریٹائرڈ سعودی کرنل نے غیر معمولی اور بے باک بیانات میں کھل کر کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات خطے میں اسرائیل کا بازو بن چکا ہے اور عربستان سمیت مختلف ممالک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ریٹائرڈ سعودی کرنل جاسم ابو عبدالرحمن نے امارات کے خلاف اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امارات خطے کے ممالک کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے اسرائیل کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، بعض ممالک میں یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے، اور خاص طور پر امارات کا بنیادی اور اسٹریٹجک ہدف سعودی عرب کو تقسیم اور کمزور کرنا ہے۔ اس وقت امارات ایک نہایت مکّار اور گندی میڈیا جنگ چلا رہا ہے۔ سوڈان میں اس کی مداخلت مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے اور اب وہ اس کردار سے انکار نہیں کر سکتا۔
امریکی کانگریس نے اس معاملے پر بات کی ہے اور امارات پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے بھی امارات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، لہٰذا اب امارات یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا کوئی کردار نہیں۔ یہ صرف ہماری بات نہیں ہے، بلکہ خود امریکہ نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے، روبیو نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی ساختہ ہتھیاروں کے ذریعے سوڈانی ریپڈ سپورٹ فورسز (امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہ) کی مدد بند کریں، کیونکہ امارات ان گروہوں کو امریکی ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔
روبیو کے ان بیانات کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ بھی دارفور اور الفاشر میں ہونے والی نسلی صفائی اور جنگی جرائم میں بالواسطہ شریک ہے، کیونکہ جو بھی ہتھیاروں، مالی مدد یا حتیٰ کہ اخلاقی حمایت کے ذریعے ان گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے، وہ ان جرائم میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت امارات اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ یمن کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے۔
امارات اب خطے میں اسرائیل کے ہاتھوں ایک آلہ بن چکا ہے جو ممالک کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سومالی میں بھی یہی صورتحال ہے۔ امارات نے اسرائیل کے اس اقدام پر کام کیا جس کے تحت شمالی سومالی کے علیحدگی پسند علاقے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا۔ یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں، کیونکہ سوال یہ ہے کہ امارات اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتا ہے؟ جنوبی یمن یا وہ علاقہ جسے وہ خود ’’جنوبی عرب‘‘ کہتے ہیں؟۔
اس معاملے میں انتہائی ہوشیاری کی ضرورت ہے، کیونکہ امارات نے اربوں ڈالر تشہیر پر خرچ کیے ہیں اور حتیٰ کہ مغربی میڈیا کو بھی اس سوچ کی ترویج کے لیے پیسے دیے ہیں۔ کس سوچ کی؟ ممالک کی تقسیم، نئی ریاستوں کے قیام اور علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنے کی سوچ، جیسا کہ صومالی لینڈ کے معاملے میں ہوا اور یہ ممکن ہے کہ یہ سب کچھ اس منصوبے کا پیش خیمہ ہو جو آئندہ جنوبی عرب میں نافذ کیا جانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تقسیم کرنے کے اسرائیل کے کر رہا ہے ممالک کو
پڑھیں:
شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔
واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔