اسلام ٹائمز: آیت‌اللہ میلانیؒ کے مخالفین نے ایک خوش گمانہ تجزیے کے تحت ان کی زندگی کے آخری برسوں کو سیاسی انزوا، گوشہ نشینی اور خاموشی سے تعبیر کیا اور مختلف توضیحات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آیت‌اللہ میلانیؒ نے اسلامی انقلابی تحریک سے اپنی ابتدائی ہمدردانہ وابستگی ترک کر دی تھی اور سیاسی اختلاف کا شکار ہو گئے تھے۔ یہ فکری لہر ان کی رحلت کے بعد بھی آج تک جاری رہی، جس نے آیت‌اللہ میلانیؒ کے اصیل سیاسی افکار کو پس منظر میں دھکیل دیا اور سیاست، اقتدار، حکومت اور ریاست کے موضوعات پر ان کے نظریات کی ازسرِنو تحقیق کو شدید متاثر کیا۔ تحریر: حجت الاسلام والمسلمین علی راد
(رکنِ علمی، جامعہ تہران) 

آیت‌اللہ العظمیٰ سید محمد ہادی میلانیؒ کی حیات ہی کے زمانے سے لے کر آج تک ایک مخصوص فکری جریان نے یہ کوشش کی ہے کہ ایران کے اسلامی انقلابی سیاسی نہضت کے مقابل، ان کے حتمی موقف کی ایک اختلافی تصویر عوام کے اذہان میں راسخ کی جائے۔ خبر رساں ادارے تسنیم قم کے مطابق آیت‌اللہ میلانیؒ کی حیات کے آخری عشرے کے دوران بعض فکری حلقوں نے ان کے سیاسی رویے کو اسلامی انقلابِ ایران کے مقابل دکھانے کی کوشش کی؛ حالانکہ چند ہی برس بعد یہی انقلاب اسلامی جمہوریہ کی صورت میں ایران میں اقتدار میں آیا اور ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔

آیت‌اللہ میلانیؒ کے مخالفین نے ایک خوش گمانہ تجزیے کے تحت ان کی زندگی کے آخری برسوں کو سیاسی انزوا، گوشہ نشینی اور خاموشی سے تعبیر کیا اور مختلف توضیحات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آیت‌اللہ میلانیؒ نے اسلامی انقلابی تحریک سے اپنی ابتدائی ہمدردانہ وابستگی ترک کر دی تھی اور سیاسی اختلاف کا شکار ہو گئے تھے۔ یہ فکری لہر ان کی رحلت کے بعد بھی آج تک جاری رہی، جس نے آیت‌اللہ میلانیؒ کے اصیل سیاسی افکار کو پس منظر میں دھکیل دیا اور سیاست، اقتدار، حکومت اور ریاست کے موضوعات پر ان کے نظریات کی ازسرِنو تحقیق کو شدید متاثر کیا۔

آیت‌اللہ میلانیؒ کے سیاسی فکر اور درپیش بنیادی چیلنجز:
آج معاصر امامیہ فقہاء کے سیاسی افکار پر تحقیق کرنے والے محققین کو آیت‌اللہ العظمیٰ سید محمد ہادی میلانیؒ کے سیاسی نظریات کی شناخت میں متعدد سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے:
الف) ان کے سیاسی افکار کا خطوط، بیانات، عملی سیرت اور سیاسی طرزِ عمل میں منتشر ہونا۔
ب) خود آیت‌اللہ میلانیؒ کا اپنے سیاسی نظریے کو کسی باقاعدہ رسالے کی صورت میں مدون نہ کرنا۔
ج) ان سے منسوب سیاسی آرا کے بارے میں زبانی روایات اور یادداشتوں میں تضاد۔
د) ساواک کے دستاویزات کا ان کی سیاسی شخصیت کو مسخ شدہ انداز میں پیش کرنے میں کردار، تاکہ ایک مقتدر شیعہ مرجع کی حیثیت سے ان کی سماجی مقبولیت کم کی جا سکے۔
ہ) مخالف فکری دھاروں کی گفتمانی بالادستی جس نے ان کے اصیل سیاسی فکر کو دبائے رکھا۔
و) وقت گزرنے کے ساتھ تاریخی اسناد پر پڑنے والی گرد۔
ز) شاگردوں اور حامیوں کی جانب سے سیاسی و سماجی مصلحتوں کے باعث دفاع میں عدم دلچسپی۔
ح) منہجِ تحقیق پر مبنی سنجیدہ مطالعات کی کمی۔
ط) ان کے تحریری و زبانی علمی ورثے کی عدم اشاعت اور محدود دستیابی۔

ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آیت‌اللہ میلانیؒ کے سیاسی نظریے کی مخالف تعبیرات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے اور سیاسی نظریات کے فہم کے جدید علمی سانچوں سے استفادہ کیا جائے۔ آئندہ تحریروں میں ان نکات پر تفصیل سے بحث کی جائے گی۔

دعوے کا تنقیدی جائزہ:
آیت‌اللہ میلانیؒ کے تحریری و زبانی علمی ذخیرے، جس میں کتب، بیانات، خطوط، تقاریر اور تاریخی اسناد شامل ہیں، کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ ان کی امام خمینیؒ کی سیاسی فکر سے اختلاف کا دعویٰ متعدد پوشیدہ مغالطوں پر مبنی ہے۔ ذیل میں ان میں سے اہم نکات بیان کیے جاتے ہیں:
1۔ سند کی جگہ تحلیل
آیت‌اللہ میلانیؒ کی جانب سے ایسا کوئی واضح بیان یا تحریر موجود نہیں جس میں انہوں نے اسلامی حکومت یا قیادت کے مسئلے میں امام خمینیؒ سے سیاسی لاتعلقی یا اختلاف کا اعلان کیا ہو۔ لہٰذا یہاں سند کی جگہ محض تحلیل نے لے لی ہے، جس کی علمی حیثیت محدود اور مشروط ہے۔
2۔ جامد اور دو قطبی سانچے
مخالف فکری دھارا آیت‌اللہ میلانیؒ کو انقلابی یا غیر انقلابی جیسے جامد اور غیر لچکدار خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان معیارات کی علمی حیثیت کیا ہے؟ اور کیوں انہی معیارات کو حتمی سمجھا جائے؟
3۔ تاریخی تقطیع
آیت‌اللہ میلانیؒ کی زندگی کے ایک محدود دور کو نمایاں کر کے، پورے سیاسی فکر کا فیصلہ صادر کرنا ایک بڑا علمی نقص ہے؛ جبکہ ان کی ایران میں موجودگی کے آخری دو عشروں میں ان کی سیاسی و سماجی فعالیت واضح ہے۔
4۔ خاموشی کی غلط تعبیر
آخری برسوں کی سیاسی خاموشی کو لازماً منفی یا انقلابی فکر سے انحراف قرار دینا درست نہیں۔ یہ خاموشی مخصوص ثقافتی اور سماجی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ فکری انحراف۔
5۔ اصولی مبانی سے تصادم
آیت‌اللہ میلانیؒ کو اہلِ انزوا میں شمار کرنا، ان کے اس واضح اور دوٹوک طرزِ عمل کے منافی ہے جس میں انہوں نے پہلوی حکومت پر شدید تنقید کی اور امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی حکومت کے قیام کی بھرپور حمایت کی۔

یہ اصول ان کے سیاسی فقہ سے نکلتے ہیں، جن کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، اور جن پر ان کا عملی التزام ان کے اقوال و افعال سے عیاں ہے۔ لہٰذا امام خمینیؒ کے سیاسی نظریے کے ساتھ ان کی ہمگرائی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کے بقول آیت‌اللہ میلانیؒ واقعی طور پر حوزۂ علمیہ مشہد کے احیاگر تھے۔ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای نے فرمایا کہ آیت‌اللہ میلانیؒ واقعی معنوں میں حوزۂ علمیہ مشہد کے احیاگر تھے اور یہ حوزہ اس عظیم عالم کا مقروض ہے۔ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کے یہ بیانات آیت‌اللہ سید محمد ہادی میلانیؒ کی یاد میں منعقدہ عظیم کانگریس کے انعقاد کے موقع پر، حرمِ مطہرِ رضوی میں منعقدہ نشست میں کانگریس کی انتظامی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کے دوران سامنے آئے۔

حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای نے اس کانگریس کے انعقاد پر قدردانی کرتے ہوئے مرحوم آیت‌اللہ میلانیؒ کو روحانی، اخلاقی، علمی اور سماجی و سیاسی اعتبار سے ایک ہمہ جہت شخصیت قرار دیا اور زور دے کر فرمایا کہ آیت‌اللہ میلانیؒ واقعی حوزۂ علمیہ مشہد کے احیاگر تھے اور یہ علمی مرکز ان کا احسان مند ہے۔ رہبرِ انقلاب نے آیت‌اللہ میلانیؒ کی فردی اور شخصی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ وقار، سنجیدگی اور متانت کے حامل تھے، ساتھ ہی عاجزی، دوستوں سے وفاداری، لطافتِ روح اور شعری ذوق جیسی صفات بھی ان میں نمایاں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیت‌اللہ میلانیؒ علمی لحاظ سے ایک بڑے مجتہد اور فقیہ تھے جنہوں نے مرحوم نائینی اور مرحوم شیخ محمد حسین اصفہانی جیسے عظیم اساتذہ سے کسبِ فیض کیا تھا، اور تدریس و علمی مباحث میں نہایت خوش بیان تھے، جس کے نتیجے میں متعدد فاضل طلبہ کی تربیت کی۔ حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای نے آیت‌اللہ میلانیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت ان کا اہلِ سلوک ہونا قرار دیا اور اس دور کے سماجی و سیاسی حالات میں ان کی فعال موجودگی کی طرف اشارہ بھی کیا۔

انہوں نے فرمایا چالیس کی دہائی کے اوائل میں جب اسلامی تحریک کا آغاز ہوا، آیت‌اللہ میلانیؒ حقیقتاً نہضتِ اسلامی کے ستونوں میں سے ایک تھے اور عملی طور پر میدان میں موجود تھے۔ امام خمینیؒ کی گرفتاری کے بعد دیگر علما کے ہمراہ ان کا تہران جانا، سیاسی میدان میں ان کی مؤثر موجودگی کی ایک واضح مثال ہے۔ رہبرِ انقلاب نے آیت‌اللہ میلانیؒ کی جانب سے اسلامی نہضت کی حمایت میں جاری کیے گئے مضبوط، سنجیدہ اور پراثر اعلامیوں کو بھی ان کی سیاسی فعالیت کا ایک اور نمونہ قرار دیا۔

انہوں نے فرمایا کہ امام خمینیؒ کی ترکیہ جلاوطنی کے بعد آیت‌اللہ میلانیؒ کا حمایتی خط ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آیت‌اللہ میلانیؒ مختلف سیاسی رجحانات سے تعلق رکھنے والے مجاہدین اور افراد سے رابطے میں رہتے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ خود کو کسی مخصوص سیاسی دھڑے سے منسوب ہونے سے سختی سے گریز کرتے تھے۔

آخر میں رہبرِ انقلاب نے امید ظاہر کی کہ اس عظیم کانگریس کے انعقاد سے آیت‌اللہ میلانیؒ کی ہمہ جہت شخصیّت کے مختلف پہلو عوام الناس کے لیے مزید واضح اور روشن ہوں گے۔
اس ملاقات کے آغاز میں حجت‌الاسلام والمسلمین مروی، متولی آستان قدس رضوی نے آیت‌اللہ میلانیؒ کی یاد میں منعقدہ کانگریس کے اہداف، اس کی علمی کمیٹیوں اور مشہد مقدس و کربلائے معلّیٰ میں منعقدہ پیش نشستوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سید محمد ہادی میلانی اسلامی انقلاب انقلاب اسلامی سیاسی افکار کانگریس کے فرمایا کہ سیاسی فکر اختلاف کا اور سیاسی کے سیاسی انہوں نے کی سیاسی کوشش کی کے آخری دیا اور کے بعد

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی