آیت اللہ العظمیٰ سید محمد ہادی میلانیؒ کے سیاسی موقف سے متعلق فکری مغالطے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: آیتاللہ میلانیؒ کے مخالفین نے ایک خوش گمانہ تجزیے کے تحت ان کی زندگی کے آخری برسوں کو سیاسی انزوا، گوشہ نشینی اور خاموشی سے تعبیر کیا اور مختلف توضیحات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آیتاللہ میلانیؒ نے اسلامی انقلابی تحریک سے اپنی ابتدائی ہمدردانہ وابستگی ترک کر دی تھی اور سیاسی اختلاف کا شکار ہو گئے تھے۔ یہ فکری لہر ان کی رحلت کے بعد بھی آج تک جاری رہی، جس نے آیتاللہ میلانیؒ کے اصیل سیاسی افکار کو پس منظر میں دھکیل دیا اور سیاست، اقتدار، حکومت اور ریاست کے موضوعات پر ان کے نظریات کی ازسرِنو تحقیق کو شدید متاثر کیا۔ تحریر: حجت الاسلام والمسلمین علی راد
(رکنِ علمی، جامعہ تہران)
آیتاللہ العظمیٰ سید محمد ہادی میلانیؒ کی حیات ہی کے زمانے سے لے کر آج تک ایک مخصوص فکری جریان نے یہ کوشش کی ہے کہ ایران کے اسلامی انقلابی سیاسی نہضت کے مقابل، ان کے حتمی موقف کی ایک اختلافی تصویر عوام کے اذہان میں راسخ کی جائے۔ خبر رساں ادارے تسنیم قم کے مطابق آیتاللہ میلانیؒ کی حیات کے آخری عشرے کے دوران بعض فکری حلقوں نے ان کے سیاسی رویے کو اسلامی انقلابِ ایران کے مقابل دکھانے کی کوشش کی؛ حالانکہ چند ہی برس بعد یہی انقلاب اسلامی جمہوریہ کی صورت میں ایران میں اقتدار میں آیا اور ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
آیتاللہ میلانیؒ کے مخالفین نے ایک خوش گمانہ تجزیے کے تحت ان کی زندگی کے آخری برسوں کو سیاسی انزوا، گوشہ نشینی اور خاموشی سے تعبیر کیا اور مختلف توضیحات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آیتاللہ میلانیؒ نے اسلامی انقلابی تحریک سے اپنی ابتدائی ہمدردانہ وابستگی ترک کر دی تھی اور سیاسی اختلاف کا شکار ہو گئے تھے۔ یہ فکری لہر ان کی رحلت کے بعد بھی آج تک جاری رہی، جس نے آیتاللہ میلانیؒ کے اصیل سیاسی افکار کو پس منظر میں دھکیل دیا اور سیاست، اقتدار، حکومت اور ریاست کے موضوعات پر ان کے نظریات کی ازسرِنو تحقیق کو شدید متاثر کیا۔
آیتاللہ میلانیؒ کے سیاسی فکر اور درپیش بنیادی چیلنجز:
آج معاصر امامیہ فقہاء کے سیاسی افکار پر تحقیق کرنے والے محققین کو آیتاللہ العظمیٰ سید محمد ہادی میلانیؒ کے سیاسی نظریات کی شناخت میں متعدد سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے:
الف) ان کے سیاسی افکار کا خطوط، بیانات، عملی سیرت اور سیاسی طرزِ عمل میں منتشر ہونا۔
ب) خود آیتاللہ میلانیؒ کا اپنے سیاسی نظریے کو کسی باقاعدہ رسالے کی صورت میں مدون نہ کرنا۔
ج) ان سے منسوب سیاسی آرا کے بارے میں زبانی روایات اور یادداشتوں میں تضاد۔
د) ساواک کے دستاویزات کا ان کی سیاسی شخصیت کو مسخ شدہ انداز میں پیش کرنے میں کردار، تاکہ ایک مقتدر شیعہ مرجع کی حیثیت سے ان کی سماجی مقبولیت کم کی جا سکے۔
ہ) مخالف فکری دھاروں کی گفتمانی بالادستی جس نے ان کے اصیل سیاسی فکر کو دبائے رکھا۔
و) وقت گزرنے کے ساتھ تاریخی اسناد پر پڑنے والی گرد۔
ز) شاگردوں اور حامیوں کی جانب سے سیاسی و سماجی مصلحتوں کے باعث دفاع میں عدم دلچسپی۔
ح) منہجِ تحقیق پر مبنی سنجیدہ مطالعات کی کمی۔
ط) ان کے تحریری و زبانی علمی ورثے کی عدم اشاعت اور محدود دستیابی۔
ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آیتاللہ میلانیؒ کے سیاسی نظریے کی مخالف تعبیرات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے اور سیاسی نظریات کے فہم کے جدید علمی سانچوں سے استفادہ کیا جائے۔ آئندہ تحریروں میں ان نکات پر تفصیل سے بحث کی جائے گی۔
دعوے کا تنقیدی جائزہ:
آیتاللہ میلانیؒ کے تحریری و زبانی علمی ذخیرے، جس میں کتب، بیانات، خطوط، تقاریر اور تاریخی اسناد شامل ہیں، کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ ان کی امام خمینیؒ کی سیاسی فکر سے اختلاف کا دعویٰ متعدد پوشیدہ مغالطوں پر مبنی ہے۔ ذیل میں ان میں سے اہم نکات بیان کیے جاتے ہیں:
1۔ سند کی جگہ تحلیل
آیتاللہ میلانیؒ کی جانب سے ایسا کوئی واضح بیان یا تحریر موجود نہیں جس میں انہوں نے اسلامی حکومت یا قیادت کے مسئلے میں امام خمینیؒ سے سیاسی لاتعلقی یا اختلاف کا اعلان کیا ہو۔ لہٰذا یہاں سند کی جگہ محض تحلیل نے لے لی ہے، جس کی علمی حیثیت محدود اور مشروط ہے۔
2۔ جامد اور دو قطبی سانچے
مخالف فکری دھارا آیتاللہ میلانیؒ کو انقلابی یا غیر انقلابی جیسے جامد اور غیر لچکدار خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان معیارات کی علمی حیثیت کیا ہے؟ اور کیوں انہی معیارات کو حتمی سمجھا جائے؟
3۔ تاریخی تقطیع
آیتاللہ میلانیؒ کی زندگی کے ایک محدود دور کو نمایاں کر کے، پورے سیاسی فکر کا فیصلہ صادر کرنا ایک بڑا علمی نقص ہے؛ جبکہ ان کی ایران میں موجودگی کے آخری دو عشروں میں ان کی سیاسی و سماجی فعالیت واضح ہے۔
4۔ خاموشی کی غلط تعبیر
آخری برسوں کی سیاسی خاموشی کو لازماً منفی یا انقلابی فکر سے انحراف قرار دینا درست نہیں۔ یہ خاموشی مخصوص ثقافتی اور سماجی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ فکری انحراف۔
5۔ اصولی مبانی سے تصادم
آیتاللہ میلانیؒ کو اہلِ انزوا میں شمار کرنا، ان کے اس واضح اور دوٹوک طرزِ عمل کے منافی ہے جس میں انہوں نے پہلوی حکومت پر شدید تنقید کی اور امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی حکومت کے قیام کی بھرپور حمایت کی۔
یہ اصول ان کے سیاسی فقہ سے نکلتے ہیں، جن کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، اور جن پر ان کا عملی التزام ان کے اقوال و افعال سے عیاں ہے۔ لہٰذا امام خمینیؒ کے سیاسی نظریے کے ساتھ ان کی ہمگرائی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔
رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کے بقول آیتاللہ میلانیؒ واقعی طور پر حوزۂ علمیہ مشہد کے احیاگر تھے۔ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی حضرت آیتاللہ خامنہای نے فرمایا کہ آیتاللہ میلانیؒ واقعی معنوں میں حوزۂ علمیہ مشہد کے احیاگر تھے اور یہ حوزہ اس عظیم عالم کا مقروض ہے۔ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کے یہ بیانات آیتاللہ سید محمد ہادی میلانیؒ کی یاد میں منعقدہ عظیم کانگریس کے انعقاد کے موقع پر، حرمِ مطہرِ رضوی میں منعقدہ نشست میں کانگریس کی انتظامی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کے دوران سامنے آئے۔
حضرت آیتاللہ خامنہای نے اس کانگریس کے انعقاد پر قدردانی کرتے ہوئے مرحوم آیتاللہ میلانیؒ کو روحانی، اخلاقی، علمی اور سماجی و سیاسی اعتبار سے ایک ہمہ جہت شخصیت قرار دیا اور زور دے کر فرمایا کہ آیتاللہ میلانیؒ واقعی حوزۂ علمیہ مشہد کے احیاگر تھے اور یہ علمی مرکز ان کا احسان مند ہے۔ رہبرِ انقلاب نے آیتاللہ میلانیؒ کی فردی اور شخصی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ وقار، سنجیدگی اور متانت کے حامل تھے، ساتھ ہی عاجزی، دوستوں سے وفاداری، لطافتِ روح اور شعری ذوق جیسی صفات بھی ان میں نمایاں تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیتاللہ میلانیؒ علمی لحاظ سے ایک بڑے مجتہد اور فقیہ تھے جنہوں نے مرحوم نائینی اور مرحوم شیخ محمد حسین اصفہانی جیسے عظیم اساتذہ سے کسبِ فیض کیا تھا، اور تدریس و علمی مباحث میں نہایت خوش بیان تھے، جس کے نتیجے میں متعدد فاضل طلبہ کی تربیت کی۔ حضرت آیتاللہ خامنہای نے آیتاللہ میلانیؒ کی ایک اور نمایاں خصوصیت ان کا اہلِ سلوک ہونا قرار دیا اور اس دور کے سماجی و سیاسی حالات میں ان کی فعال موجودگی کی طرف اشارہ بھی کیا۔
انہوں نے فرمایا چالیس کی دہائی کے اوائل میں جب اسلامی تحریک کا آغاز ہوا، آیتاللہ میلانیؒ حقیقتاً نہضتِ اسلامی کے ستونوں میں سے ایک تھے اور عملی طور پر میدان میں موجود تھے۔ امام خمینیؒ کی گرفتاری کے بعد دیگر علما کے ہمراہ ان کا تہران جانا، سیاسی میدان میں ان کی مؤثر موجودگی کی ایک واضح مثال ہے۔ رہبرِ انقلاب نے آیتاللہ میلانیؒ کی جانب سے اسلامی نہضت کی حمایت میں جاری کیے گئے مضبوط، سنجیدہ اور پراثر اعلامیوں کو بھی ان کی سیاسی فعالیت کا ایک اور نمونہ قرار دیا۔
انہوں نے فرمایا کہ امام خمینیؒ کی ترکیہ جلاوطنی کے بعد آیتاللہ میلانیؒ کا حمایتی خط ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت آیتاللہ خامنہای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آیتاللہ میلانیؒ مختلف سیاسی رجحانات سے تعلق رکھنے والے مجاہدین اور افراد سے رابطے میں رہتے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ خود کو کسی مخصوص سیاسی دھڑے سے منسوب ہونے سے سختی سے گریز کرتے تھے۔
آخر میں رہبرِ انقلاب نے امید ظاہر کی کہ اس عظیم کانگریس کے انعقاد سے آیتاللہ میلانیؒ کی ہمہ جہت شخصیّت کے مختلف پہلو عوام الناس کے لیے مزید واضح اور روشن ہوں گے۔
اس ملاقات کے آغاز میں حجتالاسلام والمسلمین مروی، متولی آستان قدس رضوی نے آیتاللہ میلانیؒ کی یاد میں منعقدہ کانگریس کے اہداف، اس کی علمی کمیٹیوں اور مشہد مقدس و کربلائے معلّیٰ میں منعقدہ پیش نشستوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سید محمد ہادی میلانی اسلامی انقلاب انقلاب اسلامی سیاسی افکار کانگریس کے فرمایا کہ سیاسی فکر اختلاف کا اور سیاسی کے سیاسی انہوں نے کی سیاسی کوشش کی کے آخری دیا اور کے بعد
پڑھیں:
ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظامپنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔
موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیںنئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاریٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔
مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کارشہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن