data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی سے متعلق ان گنت اسباب بیان کیے جاسکتے ہیں مگر میری دانست میں سقوط ڈھاکا کی بنیادی وجہ ہمارے حکمران طبقے کے ہاں برس ہا برس سے پنپ رہی یہ سوچ تھی کہ جاہل، اُجڈ اور گنوار بنگالی پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہٰذا جس قدر جلد ممکن ہو، انہیں الگ کردیا جائے۔ مشرقی پاکستان کے ایک اہم کردار میجر جنرل رائو فرمان علی، علی حسن کی تصنیف ’’پاکستان جرنیل اور سیاستدان‘‘ میں صفحہ نمبر 167 پر دوران انٹرویو کہتے ہیں کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ اقتدار بنگالیوں کو اس لیے جانا تھا کہ وہ آبادی میں زیادہ تھے۔ قومی اسمبلی میں ان کی نشستیں زیادہ تھیں لیکن پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جو انہیں اقتدار نہیں دینا چاہتا تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اکبر جو بعد ازاں برطانیہ میں پاکستان کے سفیر بھی رہے انہوں نے میرے سامنے یہ بات کہی تھی کہ ہم ان حرام زادوں کو اقتدار نہیں دیں گے۔ اس پر میں نے کہا تھا They are bastard to us then we are bastard to them یعنی اگر وہ ہمارے نزدیک حرام زادے ہیں تو ہم بھی ان کے نزدیک حرام زادے ہیں۔
بنگالیوں سے متعلق یہ سوچ کسی ایک فوجی افسر کے خیالات پر مبنی نہ تھی بلکہ بیشتر فوجی افسران اسی قسم کی رائے رکھتے تھے۔ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے پیشرو فیلڈ مارشل ایوب خان نے ’’Diaries of Field Marshal Mohammad Ayub Khan‘‘ میں متعدد مواقع پر اسی قسم کے خیالات ظاہر کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’بنگالی منفی سوچ اور رویے کے حامل ہیں، یہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے، انہیں پچھتانا پڑے گا‘‘۔
بریگیڈیئر صدیق سالک جو ان دنوں مشرقی پاکستان میں آئی ایس پی آر کے نوجوان افسر کے طور پر تعینات تھے، انہوں نے اپنی تصنیف Witness to suurender جس کا اردو ترجمہ ’’میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ کے عنوان سے ہوا ہے، اس میں کئی ایسے واقعات بیان کیے ہیں مثال کے طور پر وہ صفحہ نمبر 45 پر لکھتے ہیں کہ جنرل یحییٰ خان کے ایک معتمد جرنیل دسمبر کے آخر میں وہاں (یعنی ڈھاکا) پہنچے اور گورنمنٹ ہائوس میں ایک ضیافت کے بعد ارباب حل و عقد کی سوچ سے تنا پردہ اْٹھایا ’’آپ فکر نہ کریں ہم ان کالے حرامیوں کو اپنے اوپر ہرگز حکومت نہیں کرنے دیں گے‘‘۔ یہ بات شاید مجیب الرحمان تک بھی پہنچ گئی۔ انہوں نے انتخابات کروانے کا وعدہ پورا کرنے پر یحییٰ خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ ’’ان سازشیوں کو لگام دیں ورنہ مشرقی پاکستان کے عوام ان سے بانس کی چھڑیوں سے نمٹیں گے‘‘۔
مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کے بعد ہماری اشرافیہ کا رویہ نہیں بدلا اور اسی قسم کی سوچ دیگر چھوٹے صوبوں کے بارے میں اْبھر کر سامنے آتی رہی۔ تیسرے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کے دور میں جنرل سوار خان کے بعد جنرل غلام جیلانی خان پنجاب کے گورنر بن گئے۔ سیدہ عابدہ حسین کے مطابق جنرل غلام جیلانی ہی وہ شخص ہیں جن کی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر جنرل ضیاالحق نے مارشل لا لگانے کا فیصلہ کیا اور یہی وہ جنرل ہے جس نے حیدرآباد سازش کیس میں عبدالولی خان اور بلوچ رہنمائوں کے خلاف ثبوت پیش کیے۔ سیدہ عابدہ حسین اپنی کتاب ’’پاور فیلیئر‘‘ میں لکھتی ہیں کہ بلوچ اور پختون رہنما لاہور آتے تو ان کے گھر قیام کرتے۔ انہی دنوں جب خان عبدالولی خان ان کے گھر ٹھیرے ہوئے تھے تو نگرانی کے لیے خفیہ اہلکاروں کی ایک جیپ گھر کے باہر کھڑی رہتی۔ دراصل ان کے شوہر سید فخر امام نے ضیاالحق کے دور میں وفاقی وزیر بلدیات کا عہدہ قبول کرلیا تھا اور وہ خود اپوزیشن میں تھیں۔ ایک روز گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی خان نے سیدہ عابدہ حسین کو طلب کیا اور بتایا کہ آپ کے گھر کے باہر دو گاڑیاں کھڑی کرنا پڑتی ہیں ایک آپ کے شوہر کے پروٹوکول کے لیے اور دوسری ولی خان کی نگرانی کے لیے۔ عابدہ حسین نے کہا، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ ولی خان ہمارے معزز مہمان ہیں۔ باوجود اس کے کہ وہ پکے جمہوریت پسند ہیں اور فخر امام موجودہ فوجی حکومت میں وزیر ہیں، وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہمارے گھر میں قیام کرتے ہیں۔ جنرل جیلانی نے اس موقع پر ایک ایسی بات کہی جو اسٹیبلشمنٹ کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔
عابدہ حسین کے مطابق جنرل غلام جیلانی نے کرخت لہجے میں کہا، ’’دیکھیں بیگم عابدہ! میں نے سرحد، حتیٰ کہ سندھ اور بلوچستان میں بھی ڈیوٹی کی۔ یہ چھوٹے صوبوں والے کچھ بھی نہیں ہیں۔ پنجاب ہی پاکستان ہے، یہ کبھی مت بھولیے گا۔ یہ کہتے ہوئے جنرل غلام جیلانی نے میز پر مکا مارا۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ میں غصے میں پھٹ پڑی اور کہا، جنرل، بلوچستان، سرحد، سندھ اور پنجاب پاکستان ہے یہ بات کسی کو نہیں بھولنی چاہیے اور مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کے بعد تو بالکل بھی نہیں‘‘۔
یہ باتیں یوں یاد آئیں کہ خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ارکان اسمبلی اور صوبائی وزرا کے ہمراہ لاہور آمد پر جو مناظر دیکھنے کو ملے، وہ نہایت تکلیف دہ تھے۔ بلاشبہ خیبر پختون خوا کے وزرا کی طرف سے اخلاق سے گری ہوئی غلیظ گفتگو کی گئی لیکن پنجاب حکومت کو وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ پنجاب کے لوگ اپنی فراخدلی کے لیے مشہور ہیں۔ مگر وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کی حکومت نے آداب مہمان نوازی کو یکسر فراموش کرکے بہت منفی تاثر چھوڑا ہے۔ عظمیٰ بخاری صاحبہ کی طرف سے جس طرح ’’جانگلی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے اور ’’منشیات فروش‘‘ کی پھبتی کسی گئی، اس سے وفاق کی اکائیوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے۔
تحریک انصاف کی سیاست پر تنقید میں کوئی حرج نہیں لیکن گزشتہ چند ماہ سے پختون معاشرے پر پھبتیاں کسی جارہی ہیں اور اس طرح کا پیغام دیا جارہا ہے کہ یہ سب لوگ شرپسند، ملک دشمن اور غدار ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف پختونوں کو اپنی سیاست کی بھٹی میں بطور ایندھن جھونکنے کے لیے بہادر اور غیرت مند قرار دیتی ہے تو دوسری طرف ہماری اشرافیہ انہیں بے وقوف اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے نتیجے میں دوریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ کیا حکمران طبقہ ایک بار پھر اس مغالطے کا شکار ہے کہ پنجاب ہی پاکستان ہے؟ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنرل غلام جیلانی مشرقی پاکستان پاکستان کی پاکستان ہے یہ بات کے بعد کے لیے ہیں کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔