حیدرآباد :بون کئیر اسپتال کے باہر بھتا مافیا کا راج
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) بون کیئر اسپتال کے باہر بھتا مافیا کا راج حد کی پولیس اور ٹریفک پولیس کی ملی بھگت حیدرآباد کے علاقے ہیرآباد میں واقع بون کیئر اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ اور بھتا خوری کا گھناؤنا کاروبار زوروں پر ہے جہاں مریضوں کی عیادت کے لیے آنے والے شہریوں سے موٹرسائیکل اور کار کے نام پر زبردستی پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مارکیٹ تھانے کی پولیس اور ٹریفک پولیس کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔بون کیئر اسپتال کے باہر خودساختہ پارکنگ بنا کر بیٹھے ہیں اور ہر آنے جانے والے سے بھتا وصول کیا جا رہا ہے انکار کی صورت میں بدتمیزی، دھمکیاں اور گاڑیاں کھڑی نہ کرنے دینے جیسے ہتھکنڈے معمول بن چکے ہیں مگر پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔ذرائع کے مطابق معاملہ اتنا سنگین ہو گیا کہ بون کیئر اسپتال کے مالک ڈاکٹر رئیس پرویز کو بھی ڈرا دھمکا کر مافیا ان سے بھی بھتا لے رہی ہے،یہ مافیا مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھتا تو وصول کر رہا ہے اور اُس کی اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ لگا کر بیٹھے ہیں لیکن مارکیٹ پولیس اور ٹریفک پولیس سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیںاسپتال جیسی حساس جگہ کو بھی مافیا سے محفوظ نہ رکھا جانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ٹریفک پولیس جو عام شہری پر چالان کرنے میں لمحہ ضائع نہیں کرتی بون کیئر اسپتال کے باہر پہنچ کر اچانک کیوں نظر نہیں آتی اور مارکیٹ تھانے کی حدود میں دن دہاڑے ہونے والی اس بدمعاشی پر ایس ایچ او کی خاموشی آخر کس چیز کی علامت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بون کیئر اسپتال کے باہر ٹریفک پولیس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔