15 سالہ لڑکی کی عدم بازیابی پر پولیس افسران سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے 15 سالہ لڑکی کے اغوا اور عدم بازیابی پر پولیس افسران سے جواب طلب کرلیا۔
عدالت عالیہ سندھ میں کورنگی سے اغوا ہونے والی 15 سالہ لڑکی کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ایمن رواں سال 10 نومبر کو کورنگی سے اغوا ہوئی، ڈیڑھ ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود نہ ملزم گرفتار ہوا نہ لڑکی بازیاب ہوئی۔
سندھ ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سمیت پولیس حکام کو نوٹس جاری کردیا۔
عدالت عالیہ سندھ نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی اور تفتیشی افسران سے جواب طلب کیا ہے۔
عدالت نے فریقین کو 13 جنوری 2026ء تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔