اسلام آباد ہائی کورٹ :عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-01-16
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں وکیل خالد یوسف چودھری کے توسط سے دائر کردی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی اپیل پر ڈائری نمبر 24561 لگادیا جبکہ عمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگایا گیا ہے۔ عدالت میں دائراپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انعام اللہ شاہ جس کو بر طرف کیا جا چکا تھا عدالت نے اس کے بیان پر انحصار کیا۔ عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا۔ استغاثہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت میں دائر درخواست میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایک ہی جرم میں متعدد مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ اسپیشل سینٹرل عدالت کو اختیار سماعت نہیں تھا۔ اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا۔ بلغاری سیٹ توشہ خانہ قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا۔ مقدمہ بغیر تفتیش قائم کیا گیا۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہی ٹرائل کو متعدد کارروائیوں میں تقسیم کرنے کا مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا ہے، مقدمے کا بنیادی مقصد اپیل کنندہ کو مسلسل قید میں رکھنا، ملکی سیاست میں ان کی شرکت روکنا اور ان کے سیاسی کردار و اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے،سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درخواست گزار سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتا۔درخواست میں اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ عمران خان اور اسلام ا باد گیا ہے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش