کپاس کے برآمدی معاملات اسٹیٹ بینک کے سپرد
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) وفاقی حکومت نے کپاس کی برآمدات کے معاملات ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے لے کر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر دیے ہیں۔اس ضمن میں وزارتِ تجارت نے ایس آر او 2486(1)/2025 جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ، 1950 کے سیکشن 3 کے سب سیکشن (1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر، 2022 میں درج ذیل مزید ترامیم کرنے کی ہدایت کی ہے، یعنی سیرئیل نمبر 9 کے کالم (4) میں یہ درج ہوگا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس کنٹریکٹ کی کل مالیت کا 1 فیصد بطور سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کروانا ہوگا اور شپنگ دستاویزات کے ساتھ کسٹمز حکام کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اس کی تصدیقی دستاویز پیش کرنی ہوگی جبکہ خریدار (امپورٹر) کی جانب سے ایک ناقابلِ واپسی لیٹر آف کریڈٹ کھولا جائے گا اور کنٹریکٹ شدہ مقدار کی شپمنٹ 180 دنوں کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔ مقررہ وقت کے اندر کنٹریکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس مقدار کے تناسب سے سیکورٹی ڈپازٹ ضبط کر لے گا جو برآمد نہیں کی گئی ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ف پاکستان اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔