Jasarat News:
2026-07-24@07:46:27 GMT

کپاس کے برآمدی معاملات اسٹیٹ بینک کے سپرد

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) وفاقی حکومت نے کپاس کی برآمدات کے معاملات ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے لے کر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر دیے ہیں۔اس ضمن میں وزارتِ تجارت نے ایس آر او 2486(1)/2025 جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ، 1950 کے سیکشن 3 کے سب سیکشن (1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر، 2022 میں درج ذیل مزید ترامیم کرنے کی ہدایت کی ہے، یعنی سیرئیل نمبر 9 کے کالم (4) میں یہ درج ہوگا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس کنٹریکٹ کی کل مالیت کا 1 فیصد بطور سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کروانا ہوگا اور شپنگ دستاویزات کے ساتھ کسٹمز حکام کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اس کی تصدیقی دستاویز پیش کرنی ہوگی جبکہ خریدار (امپورٹر) کی جانب سے ایک ناقابلِ واپسی لیٹر آف کریڈٹ کھولا جائے گا اور کنٹریکٹ شدہ مقدار کی شپمنٹ 180 دنوں کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔ مقررہ وقت کے اندر کنٹریکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس مقدار کے تناسب سے سیکورٹی ڈپازٹ ضبط کر لے گا جو برآمد نہیں کی گئی ہو گی۔

کامرس رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ف پاکستان اسٹیٹ بینک

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل