حقیقتِ روح، تفسیر المیزان سے
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: علامہ طباطبائیؒ کے نزدیک روح کوئی واحد، سادہ یا سطحی حقیقت نہیں، بلکہ امرِ الہیٰ سے وابستہ ایک حقیقتِ ذو مراتب ہے، جو مختلف مواقع پر مختلف آثار کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے اور اس حقیقت کا کامل علم۔۔۔۔ جیسا کہ خود قرآن نے تصریح فرمائی۔۔۔ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ "وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقَائِقِ أُمُورِهِ" تحریر: ساجد علی گوندل
قرآنِ کریم میں لفظ "روح" ایک نہایت عمیق اور کثیرالجہات حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ بادی النظر میں اس سے مبدأِ حیات کا تصور ذہن میں آتا ہے، لیکن قرآنی استعمالات کے مجموعی مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ روح کا مفہوم محض انسانی یا حیوانی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرۂ اطلاق ایسی حقیقتوں تک پھیلا ہوا ہے جو مادّی حیات اور جسمانی وجود سے ماورا ہیں۔ قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر روح کا ذکر ایسے سیاق و سباق میں کیا ہے، جو انسان و حیوان کے علاوہ دیگر حقائق کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا"، "پس ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو بھیجا"(سورۂ مریم، آیت 17)
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: "وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا"، "اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف اپنے امر سے ایک روح کی وحی کی" (سورۂ شوریٰ، آیت 52) ان آیات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ لفظ «روح» کا اطلاق محض جاندار اجسام میں پائی جانے والی حیات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے متعدد مصادیق ہیں؛ چنانچہ انسانی روح اس وسیع حقیقت کا ایک مصداق ہے، نہ کہ اس کی مکمل تعبیر۔
روح اور امرِ الہیٰ
قرآنِ کریم میں بعض مقامات پر لفظ "روح" کو مطلقاً، بغیر کسی قید یا اضافت کے ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ: "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي"، "وہ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو: روح میرے پروردگار کے امر میں سے ہے.
اسی بنیاد پر قرآنِ کریم حضرت عیسیٰؑ کو۔۔۔ ان کی غیر معمولی پیدائش کے سبب۔۔۔۔ کلمۃُ اللہ اور روح قرار دیتا ہے: "وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ" (سورۂ نساء، آیت 171) اور اس حقیقت کی مزید توضیح یوں کرتا ہے: "إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ" (سورۂ آلِ عمران، آیت 59) ان آیات میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ دونوں کی تخلیق کو براہِ راست امرِ الٰہی اور کلمۂ "کن" سے مربوط کیا گیا ہے، نہ کہ عام اسبابِ تولید سے۔ یہی نسبت روح کو امرِ الٰہی سے وابستہ حقیقت کے طور پر سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ قرآنِ کریم میں زیادہ تر روح کا ذکر اضافت کے ساتھ آیا ہے، مثلاً: "وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي"، "وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ"، "وَرُوحٌ مِّنْهُ"، "وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ" البتہ بعض مقامات پر روح کو بغیر کسی قید کے بھی ذکر کیا گیا ہے، جیسے: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا" (سورۂ قدر، آیت 4) "تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ" (سورۂ معارج، آیت 4) ان آیات کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ روح ایک مستقل آسمانی حقیقت ہے، جو فرشتوں سے ممتاز بھی ہے اور بعض مواقع پر ان کے ساتھ ذکر کی گئی ہے۔
روح، انسان اور فرشتہ
فرشتے اپنی حقیقت میں مجرد روحانی موجودات ہیں اور ان کا انسانی صورت میں ظاہر ہونا محض تمثّل ہے، جیسا کہ فرمایا گیا: "فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا" (سورۂ مریم، آیت 17) اس کے برخلاف انسان ایک مرکب وجود رکھتا ہے، اسی لیے اس کے بارے میں "نفخِ روح" کی تعبیر استعمال کی گئی ہے: "فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي"
(سورۂ حجر، آیت 29)
روح کے وجودی مراتب
قرآنی آیات کے مجموعی مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ روح کے مراتب مختلف ہیں: روحِ حیات، جو تمام جانداروں میں پائی جاتی ہے۔ روحِ ایمان، جو خاص اہلِ ایمان کو عطا کی جاتی ہے: "وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ" (سورۂ مجادلہ، آیت 22) روحُ القدس، جو انبیاءؑ کی تائید و نصرت کا ذریعہ بنتی ہے: "وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ" (سورۂ بقرہ، آیت 87) یہ مراتب ماہیت، شرافت اور اثر کے اعتبار سے ایک دوسرے سے ممتاز ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف قرآنِ کریم ایک بلیغ تمثیل کے ذریعے اشارہ کرتا ہے: "أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا" (سورۂ انعام، آیت 122) علامہ طباطبائیؒ کے مطابق یہاں "موت" سے مراد کفر و ضلالت کی حالت ہے، اگرچہ انسان ظاہری حیات رکھتا ہو اور "حیات" و "نور" سے مراد وہ باطنی زندگی ہے، جو ایمان اور ہدایت کے ذریعے انسان کو عطا ہوتی ہے۔
نتیجہ
علامہ طباطبائیؒ کے نزدیک روح کوئی واحد، سادہ یا سطحی حقیقت نہیں، بلکہ امرِ الہیٰ سے وابستہ ایک حقیقتِ ذو مراتب ہے، جو مختلف مواقع پر مختلف آثار کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے اور اس حقیقت کا کامل علم۔۔۔۔ جیسا کہ خود قرآن نے تصریح فرمائی۔۔۔ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ "وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقَائِقِ أُمُورِهِ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخذ:
تفسیر المیزان، سورہ نبا، آیت 38 کے ذیل میں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے وابستہ جیسا کہ ہوتی ہے کے ساتھ ان آیات کرتا ہے روح کو گیا ہے اور اس
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔