ہرتزوگ نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ سے وزیرِاعظم نتن یاہو کے تعلقات اور ہرتزوگ کی جانب سے معافی کی اہمیت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیرِاعظم کو معاف نہ کیا جائے؟ میں نے اس بارے میں ہرتزوگ سے بات کی اور انہوں نے کہا کہ معافی ممکن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنیامین نتن یاہو کی جلد متوقع معافی کا ذکر کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک عبرانی زبان کے میڈیا نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی صدر یتسحاق ہرتزوگ نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اسرائیلی اخبار معاریو نے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ نے اس ملاقات میں کہا تھا کہ یتسحاق ہرتزوگ نے انہیں اسرائیلی وزیرِاعظم کی معافی کا وعدہ دیا ہے۔
ہرتزوگ کے دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ نتن یاہو کی جانب سے معافی کی درخواست پیش کیے جانے کے بعد ٹرمپ اور ہرتزوگ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ سے ان کے اور وزیرِاعظم نتن یاہو کے تعلقات اور ہرتزوگ کی جانب سے معافی کی اہمیت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیرِاعظم کو معاف نہ کیا جائے؟ میں نے اس بارے میں ہرتزوگ سے بات کی اور انہوں نے کہا کہ معافی ممکن ہے۔
اس بیان کے فوراً بعد ہرتزوگ کے دفتر نے ٹرمپ کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معافی کی درخواست جمع کرانے کے بعد سے صدر ہرتزوگ اور صدر ٹرمپ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چند ہفتے قبل ہرتزوگ نے ٹرمپ کے ایک نمائندے سے بات کی تھی، جس میں امریکی صدر کے خط کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ اس گفتگو میں معافی کی درخواست کے طریقۂ کار اور اس بنیاد پر فیصلہ کیے جانے کے عمل کی وضاحت کی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہرتزوگ نے معافی کی نتن یاہو ممکن ہے ٹرمپ کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔