سندھ بلڈنگ،پلاٹ مافیا اور افسران کا گٹھ جوڑ، تباہ کن غیرقانونی کمرشل تعمیرات
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وقار ہاشمی اور آصف شیخ پر رہائشی پلاٹوں کو کمرشل یونٹ میں بدلنے میں معاونت کا الزام
رہائشیوں کے احتجاج کے باوجود پلاٹ 47اور اے 570پر غیرقانونی تعمیرات جاری
ضلع شرقی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں پیدائشی رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ کی غیرقانونی تعمیرات نے نہ صرف علاقے کا نقشہ بدل دیا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار ہاشمی اور آصف شیخ کی مبینہ سرپرستی میں تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ اس غیرقانونی سرگرمی کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پی آئی بی کالونی، جو بنیادی طور پر رہائشی کالونی تھی، اب اس میں تجارتی مراکز، دفاتر اور دکانوں کی بے قاعدہ تعمیرات نے نہ صرف ٹریفک کا نظام مفلوج کر دیا ہے بلکہ نکاسی آب، پانی اور بجلی کی ترسیل پر بھی زبردست دباؤ ڈالا ہے ۔اس وقت بھی پلاٹ نمبر 47اور اے 570پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں ،علاقے کے مکینوں نے بارہا ایس بی سی اے اور دیگر اداروں میں شکایات درج کروائیں، مگر انتظامیہ کی سرپرستی میں تعمیراتی مافیا کا یہ دھندہ بدستور جاری ہے ۔مقامی رہائشی رضوان احمد نے بتایا، ’’ہمارے گھروں کے سامنے کمرشل عمارتیں اٹھ رہی ہیں،جن کی منظوری کبھی نہیں دی گئی۔ہماری سڑکیں ان کی تعمیراتی گاڑیوں سے بھری رہتی ہیں‘‘۔اسی طرح خاتون رہائشی فوزیہ نے کہا، ’’بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ایک بڑا سبب یہ غیرقانونی کمرشل یونٹس ہیں جو رہائشی بجلی کو بھی استعمال کر رہے ہیں‘‘۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار ہاشمی نے آصف شیخ کی مبینہ ملی بھگت سے متعدد غیرقانونی تعمیرات کے لیے منظوری دے کر خطیر رقوم وصول کی ہیں۔ ان تعمیرات میں ضابطوں کی خلاف ورزیوں میں پارکنگ کا انتظام نہ ہونا، فائر سیفٹی کا فقدان اور زمین کا استعمال بدلنا شامل ہیں۔ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات اور فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کریں اور نہ صرف غیرقانونی تعمیرات کو گرا کر علاقے کو رہائشی شکل دیں بلکہ ملازمین کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں۔ پی آئی بی کالونی کے مکینوں نے واضح کیا ہے کہ اگر جلد از جلد ان کی شکایات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کریں گے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکام اس غیرقانونی گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یا پھر رہائشی علاقوں کا کمرشلائزیشن کا یہ سلسلہ شہر کے دیگر حصوں میں بھی پھیلتا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیرقانونی تعمیرات
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔