لاہور ہائیکورٹ کے نام کا جعلی خط بنانے پر سول جج کی اہلیہ، سسر اور سالے کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا گیا۔

جسٹس طارق محمود باجوہ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سول جج کی اہلیہ، سسر اور سالے کی درخواست ضمانت نمٹا دی۔

عدالت نے پولیس رپورٹ کی روشنی میں درخواست ضمانت نمٹائی۔ تفتیشی افسر کے مطابق مقدمہ بے بنیاد درج ہوا اور تفتیش میں جعلی خط لکھا جانا ثابت نہیں ہوا۔

سول جج کی اہلیہ انم، سسر الیاس اور سالے حسیب نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ملزمان کے وکیل وقار اے شیخ نے دلائل دیے۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سول جج تاندلیانوالہ علی رضا نے بیوی کا جعلی اجازت نامہ بنا کر دوسری شادی کی اور جعلی اجازت نامہ بنانے پر بیوی نے سول جج کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔

ملزمان کے وکیل کے مطابق سول جج نے مقامی بار سے ملی بھگت کرکے ہائیکورٹ کے نام کا جعلی لیٹر بنایا اور جعلی لیٹر کو اپنی پہلی بیوی، سسر اور سالے سے منسوب کرکے مقدمہ درج کروا دیا۔

استدعا کی گئی کہ عدالت بے بنیاد مقدمے میں ملزمان کی ضمانت منظور کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سول جج کی اہلیہ سسر اور سالے کا جعلی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور