ہائیکورٹ کے نام کا جعلی خط بنانے پر سول جج کی اہلیہ، سسر اور سالے کیخلاف مقدمہ خارج
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ کے نام کا جعلی خط بنانے پر سول جج کی اہلیہ، سسر اور سالے کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا گیا۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سول جج کی اہلیہ، سسر اور سالے کی درخواست ضمانت نمٹا دی۔
عدالت نے پولیس رپورٹ کی روشنی میں درخواست ضمانت نمٹائی۔ تفتیشی افسر کے مطابق مقدمہ بے بنیاد درج ہوا اور تفتیش میں جعلی خط لکھا جانا ثابت نہیں ہوا۔
سول جج کی اہلیہ انم، سسر الیاس اور سالے حسیب نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ملزمان کے وکیل وقار اے شیخ نے دلائل دیے۔
وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سول جج تاندلیانوالہ علی رضا نے بیوی کا جعلی اجازت نامہ بنا کر دوسری شادی کی اور جعلی اجازت نامہ بنانے پر بیوی نے سول جج کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔
ملزمان کے وکیل کے مطابق سول جج نے مقامی بار سے ملی بھگت کرکے ہائیکورٹ کے نام کا جعلی لیٹر بنایا اور جعلی لیٹر کو اپنی پہلی بیوی، سسر اور سالے سے منسوب کرکے مقدمہ درج کروا دیا۔
استدعا کی گئی کہ عدالت بے بنیاد مقدمے میں ملزمان کی ضمانت منظور کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سول جج کی اہلیہ سسر اور سالے کا جعلی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔