Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:05:49 GMT

بگ بیش لیگ: حارث رؤف جان لیوا حادثے سے بچ گئے

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

بگ بیش لیگ: حارث رؤف جان لیوا حادثے سے بچ گئے

بگ بیش لیگ کے 14ویں میچ میں میلبرن اسٹارز کے پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے۔ میچ سڈنی تھنڈرز کے خلاف کھیلا گیا، جس میں حارث نے 29 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیتا۔
میچ کی پہلی اننگز کے دوران آخری اوور کی چوتھی گیند پر ریس ٹوپلی نے شاندار ہٹ لگائی، جس سے گیند ہوا میں بلند ہو گئی۔ کیچ پکڑنے کے لیے حارث رؤف شارٹ تھرڈ پوزیشن اور ہلٹن کارٹرائٹ ڈیپ پوائنٹ پر دوڑے، دونوں کھلاڑی فل لینتھ ڈائیو لگاتے ہوئے گیند پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس دوران حارث اور ہلٹن ایک دوسرے سے سر کے بل ٹکرانے سے بال بال بچ گئے، جس نے نہ صرف شائقین بلکہ کمنٹیٹرز کو بھی خوفزدہ کر دیا۔ کمنٹیٹرز نے اس لمحے کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعی ایک جان لیوا موقع ہو سکتا تھا۔
حارث رؤف کی بروقت ردعمل اور محفوظ رہنا شائقین کے لیے ایک خوش آئند خبر بنی، جبکہ ان کی بہترین بولنگ نے ٹیم کو اہم کامیابی دلائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی