حکومت کی جانب سے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر سالانہ تقریباً 9 ارب ڈالر کے درآمدی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ یہ بات پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو آگاہ کی گئی۔

یہ اجلاس سینیٹر خالدہ عتیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر سید مسرور احسن اور وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی۔

درآمدی ای وی پر ٹیکس، مقامی گاڑیوں کو ریلیف

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکام نے بتایا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر یا صفر رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے نئی انرجی وہیکل پالیسی پاکستان کا سرسبز مستقبل، 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک بنانے کا ہدف

حکام نے مزید بتایا کہ ان ای وی پرزہ جات کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی گئی ہیں جو اب مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

صوبوں کو ای وی رجسٹریشن فیس میں نرمی کی ہدایت

وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس وصول نہ کریں، ملک بھر میں ایک ہی طرز کی نمبر پلیٹس جاری کریں اور ای وی گاڑیوں پر ٹول ٹیکس کم وصول کیا جائے۔

ای وی مینوفیکچرنگ پالیسی پر بریفنگ

اجلاس کے دوران حکام نے ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر گاڑیوں کی تیاری کے لیے موجودہ پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی۔

حکام کے مطابق اب تک 3 پہیوں والی گاڑیوں (رکشے) کے لیے 17 لائسنس اور 2 پہیوں والی گاڑیوں (موٹر سائیکل/بائیکس) کے لیے 77 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

2030 تک 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک کرنے کا ہدف

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں۔ اس مقصد کے لیے حکومت سبسڈی کے تحت 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں عوام کو فراہم کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔ رواں سال 1 لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں 3 ہزار 170 الیکٹرک رکشے عوام کو فراہم کیے جائیں گے۔

کاربن لیوی سے 120 ارب روپے کی آمدن متوقع

سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ 5 برسوں میں کاربن لیوی کے ذریعے 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، جو مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوں گے۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے، جبکہ وہ مینوفیکچررز جو برآمدات نہیں کر رہے تھے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

نیو انرجی وہیکلز (NEV) پالیسی 2025-30

حکام نے اجلاس میں نیو انرجی وہیکلز (NEV) پالیسی 2025-30 پر بھی روشنی ڈالی۔ اس پالیسی کا مقصد گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی میں کمی، فضائی معیار کی بہتری، بجلی کی زائد پیداواری صلاحیت کا مؤثر استعمال اور تیل کی درآمدات میں کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے جدید جاپانی رکشا پاکستانی کی سڑکوں پر، خصوصیات کیا ہیں؟

پالیسی کے تحت مقامی نیو انرجی وہیکلز انڈسٹری کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ماحول دوست روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عزم بھی شامل ہے۔

طویل المدتی اہداف

پالیسی کے مطابق 2030 تک نئی فروخت ہونے والی 30 فیصد موٹر سائیکلیں، رکشے، کاریں، بسیں اور ٹرک نیو انرجی وہیکلز ہوں گے۔ 2040 تک یہ شرح 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔ 2060 تک نیٹ زیرو ٹرانسپورٹ فلیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی

پالیسی میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں ای وی اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی زیادہ ابتدائی قیمت ہے، جسے کم کر کے روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے قریب لانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، جیسا کہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک میں کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹرک گاڑیاں پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک گاڑیاں پاکستان الیکٹرک گاڑیوں پر نیو انرجی وہیکلز بتایا کہ ملک میں پر ٹیکس حکام نے کے لیے کیے جا کا ہدف

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق