بڑی خوشخبری، حکومت نے سستی الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
حکومت کی جانب سے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر سالانہ تقریباً 9 ارب ڈالر کے درآمدی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ یہ بات پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو آگاہ کی گئی۔
یہ اجلاس سینیٹر خالدہ عتیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر سید مسرور احسن اور وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی۔
درآمدی ای وی پر ٹیکس، مقامی گاڑیوں کو ریلیفسینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکام نے بتایا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر یا صفر رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے نئی انرجی وہیکل پالیسی پاکستان کا سرسبز مستقبل، 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک بنانے کا ہدف
حکام نے مزید بتایا کہ ان ای وی پرزہ جات کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی گئی ہیں جو اب مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
صوبوں کو ای وی رجسٹریشن فیس میں نرمی کی ہدایتوزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس وصول نہ کریں، ملک بھر میں ایک ہی طرز کی نمبر پلیٹس جاری کریں اور ای وی گاڑیوں پر ٹول ٹیکس کم وصول کیا جائے۔
ای وی مینوفیکچرنگ پالیسی پر بریفنگاجلاس کے دوران حکام نے ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر گاڑیوں کی تیاری کے لیے موجودہ پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام کے مطابق اب تک 3 پہیوں والی گاڑیوں (رکشے) کے لیے 17 لائسنس اور 2 پہیوں والی گاڑیوں (موٹر سائیکل/بائیکس) کے لیے 77 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
2030 تک 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک کرنے کا ہدفحکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں۔ اس مقصد کے لیے حکومت سبسڈی کے تحت 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں عوام کو فراہم کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔ رواں سال 1 لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں 3 ہزار 170 الیکٹرک رکشے عوام کو فراہم کیے جائیں گے۔
کاربن لیوی سے 120 ارب روپے کی آمدن متوقعسینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ 5 برسوں میں کاربن لیوی کے ذریعے 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، جو مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوں گے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے، جبکہ وہ مینوفیکچررز جو برآمدات نہیں کر رہے تھے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
نیو انرجی وہیکلز (NEV) پالیسی 2025-30حکام نے اجلاس میں نیو انرجی وہیکلز (NEV) پالیسی 2025-30 پر بھی روشنی ڈالی۔ اس پالیسی کا مقصد گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی میں کمی، فضائی معیار کی بہتری، بجلی کی زائد پیداواری صلاحیت کا مؤثر استعمال اور تیل کی درآمدات میں کمی ہے۔
یہ بھی پڑھیے جدید جاپانی رکشا پاکستانی کی سڑکوں پر، خصوصیات کیا ہیں؟
پالیسی کے تحت مقامی نیو انرجی وہیکلز انڈسٹری کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ماحول دوست روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عزم بھی شامل ہے۔
طویل المدتی اہدافپالیسی کے مطابق 2030 تک نئی فروخت ہونے والی 30 فیصد موٹر سائیکلیں، رکشے، کاریں، بسیں اور ٹرک نیو انرجی وہیکلز ہوں گے۔ 2040 تک یہ شرح 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔ 2060 تک نیٹ زیرو ٹرانسپورٹ فلیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی
پالیسی میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں ای وی اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی زیادہ ابتدائی قیمت ہے، جسے کم کر کے روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے قریب لانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، جیسا کہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک میں کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹرک گاڑیاں پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک گاڑیاں پاکستان الیکٹرک گاڑیوں پر نیو انرجی وہیکلز بتایا کہ ملک میں پر ٹیکس حکام نے کے لیے کیے جا کا ہدف
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔