اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر ریکارڈ توڑ تیزی دیکھی گئی، جہاں 100 انڈیکس میں 700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 10 بج کر 5 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 719.98 پوائنٹس یعنی 0.41 فیصد اضافے کے ساتھ 174,616.32 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری ہفتے کا شاندار آغاز، انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +402.
— Investify Pakistan (@investifypk) December 30, 2025
ماری، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پی او ایل، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، اور نیشنل بینک سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر ڈالنے والے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
ایک اہم پیش رفت میں پاکستان نے اسلامی مالیات کے شعبے میں تاریخی کامیابی حاصل کی، جہاں وزارتِ خزانہ نے 2025 میں 2 کھرب روپے سے زائد مالیت کے سکوک بانڈز جاری کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ 2008 کے بعد کسی ایک کیلنڈر سال میں سکوک کا سب سے بڑا اجرا ہے۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
گزشتہ روز یعنی پیر کو بھی اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جہاں مثبت سرمایہ کار رجحان کے باعث مارکیٹ ایک نئی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھی۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,496 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 173,896 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر منگل کے روز ایشیائی مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی، جو وال اسٹریٹ میں ٹیکنالوجی شیئرز کی گراوٹ کے اثرات کا نتیجہ تھی۔
اسی دوران چاندی اور سونے کی قیمتیں مستحکم رہیں، کیونکہ ریکارڈ سطحوں سے تیز گراوٹ کے بعد قیمتی دھاتوں کی حالیہ تیزی میں کچھ کمی آئی۔
عالمی جغرافیائی کشیدگی میں اضافے کے طور پر چین نے منگل کے روز تائیوان کے گرد 10 گھنٹے طویل لائیو فائرنگ مشقیں شروع کیں۔
چھٹیوں کے باعث مختصر تجارتی ہفتے میں بیشتر مارکیٹس میں لیکویڈیٹی کم ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیز اور غیر یقینی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:سال 2025 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے کیسا رہا اور 2026 میں کیا رجحان رہے گا؟
منگل کے روز جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.1 فیصد نیچے آیا، تاہم سالانہ بنیادوں پر یہ 26.7 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو 2017 کے بعد اس کی بہترین کارکردگی ہوگی۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوا، تاہم سال بھر میں یہ بھی 26 فیصد اضافے پر ہے۔
تائیوانی حصص میں 0.7 فیصد کمی آئی جبکہ چین کے بلیو چپ حصص 0.3 فیصد گر گئے، جس کی وجہ بیجنگ کی جانب سے تائیوان کے گرد فوجی مشقیں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج اسلامی مالیات انڈیکس بیجنگ پاکستان پاکستان اسٹیٹ آئل میزان بینک نیشنل بینک وزارت خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج اسلامی مالیات انڈیکس پاکستان پاکستان اسٹیٹ ا ئل
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔