لین وائلیشن کی روک تھام کے لیے ٹریفک پولیس کے 8 پکٹس قائم
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق، اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہر میں ٹریفک مینیجمنٹ اور بائیکرز کی لین وائلیشن کی روک تھام کے لیے مختلف مقامات پر 8 خصوصی پکٹس قائم کر دیے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ بائیکرز کی جانب سے لین وائلیشن نہ صرف دیگر روڈ یوزرز کے لیے انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس سے ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: 2025: اسلام آباد پولیس کی میں شاندار کارکردگی، جرائم میں تاریخی کمی
انہوں نے کہا کہ لین وائلیشن اور رانگ وے ڈرائیونگ کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے بائیکرز سے اپیل کی ہے کہ وہ لین وائلیشن اور رانگ وے ڈرائیونگ سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق، اسلام آباد ٹریفک پولیس شہریوں کو محفوظ اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی بڑی کامیابی، تاوان کے لیے اغوا کیا گیا لڑکا پشاور سے بازیاب
شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہوئے اپنی ٹریفک پولیس سے تعاون کریں۔ کسی بھی معلومات یا اپ ڈیٹ کے لیے شہری ٹریفک ہیلپ لائن 1915 یا پکار 15 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس بائیکرز ٹریفک پولیس لین وائلیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس بائیکرز ٹریفک پولیس لین وائلیشن ٹریفک پولیس لین وائلیشن اسلام آباد کے لیے
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔