افغان سرحد سے دہشتگردی کا خطرہ ، کے پی میں سرچ آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پشاور میں رواں سال پولیس کی سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز سے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 2025 کے دوران 1 ہزار 16 سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کیے گئے۔ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کے دوران 731 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
آپریشنز کے دوران 846 ہتھیار اور 14 ہزار سے زائد گولیاں برآمد کی گئیں جبکہ پشاور میں منشیات کے خلاف کارروائیاں میں 524 ملزمان گرفتار کیے گئے۔
90 کلو چرس، 91 کلو آئس اور تقریباً 3 کلو ہیروئن بھی برآمد کی گئیں۔ پشاور میں منشیات کے اڈوں پر کریک ڈاؤن کے دوران 95 بوتلیں شراب ضبط کی گئیں۔
کرایہ داری قوانین کی خلاف ورزی پر 1596 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان سرحد سے دہشتگردی کا خطرہ کے پی میں سرچ آپریشن کے دوران
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔