پشاور‘داؤدزئی میں پولیس کا آپریشن‘5 ٹارگٹ کلرز ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-08-11
پشاور(صباح نیوز)پشاور کے علاقے داؤدزئی میں پولیس اور ملزمان کے درمیان شدید فائرنگ کے بعد بڑا آپریشن کامیاب رہا۔ جس میں5 انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلرز ہلاک ہو گئے۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور دیگر اضلاع کی پولیس کو متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس میں پولیس کو رات کی تاریکی کے باعث آپریشن میں مشکلات درپیش رہیں، تاہم پولیس نے علاقے کو مکمل گھیرے میں لے کر بھاری نفری کے ساتھ تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے جبکہ کسی بھی مشتبہ فرد کو فرار ہونے کا موقع نہ دینے کے لیے سخت نگرانی جاری ہے۔ ٹارگٹ کلرز گینگ پولیس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، ہلاک ملزمان پہلے بھی 2 پولیس اہلکاروں کو شہید کر چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گینگ سرغنہ نجمل الحسن نے وڈیو بیان میں پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا، ٹارگٹ کلرز گینگ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل میں 30 وارداتوں میں ملوث تھا، ٹارگٹ کلرز پشاور میں 12 اور نوشہرہ میں17 افراد کے قتل میں ملوث تھے، ہلاک ٹارگٹ کلرز نے چارسدہ اور درہ آدم خیل میں بھی 1،1 شخص کو قتل کیا تھا۔ گینگ نے اے این پی رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا تھا،ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو بھی فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا۔اعلیٰ حکام نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس ہر قیمت پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور امن و امان کو خراب کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹارگٹ کلرز میں پولیس
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔