ایف بی آر نے وسطی پنجاب میں دو شوگر ملز کو قانونی ضوابط کی خلاف ورزیوں پر سیل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد، لاہور (نمائندہ خصوصی، کامرس رپورٹر) ایف بی آرنے وسطی پنجاب میں دو شوگر ملز کو قانونی ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کر دیا ۔یہ کارروائی سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ءکے سیکشن 40C کی خلاف ورزیوں، نیز سیلز ٹیکس رولز 2006ءکے رول کے تحت کی گئی۔ جن کے تحت شوگر سیکٹر کے لیے لازمی مانیٹرنگ، کنٹرول اور تعمیلی (کمپلائنس) طریقہ کار مقرر ہیں۔یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ایف بی آر بالخصوص زیادہ خطرے والے شعبوں میں سیلز ٹیکس قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے اور مسلسل عدم تعمیل میں ملوث ٹیکس دہندگان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
شوگر ملز سیل
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔