این اے 130، یاسمین راشد کی درخواست مسترد ، نوازشریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہورالیکشن ٹربیونل نے این اے 130 لاہور سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار دے دیا۔
الیکشن ٹربیونل نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے این اے 130 لاہور سے مسلم لیگ ن کے صدر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار دیدیا۔
نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ نے دلائل دیے جبکہ الیکشن ٹریبونل کے جج رانا زاہد محمود نے فیصلہ سنایا اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست خارج کردی۔
یاد رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 130 پر نواز شریف 171024ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ آزاد امیدوار یاسمین راشد نے 115043 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔
پراپرٹی فائلوں میں فراڈ کیخلاف حکومت کا سخت ایکشن، وزیراعظم نے احکامات جاری کردیے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: یاسمین راشد کی کامیابی نواز شریف شریف کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔