WE News:
2026-06-03@07:05:49 GMT

لاہور: 39 جھگیوں کے خاتمے کے بعد شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کا عزم

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

لاہور: 39 جھگیوں کے خاتمے کے بعد شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کا عزم

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’ستھرا پنجاب‘ وژن کے تحت لاہور کو زیرو ویسٹ شہر بنانے کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ سال 2025 میں شہر کے 39 جھگی پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی تھی، جو اب مکمل طور پر کلئیر کر دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: رواں برس لاہور میں کتنے ہزار لوگوں کی جیب کٹی؟

ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور انفورسمنٹ ونگ کی مشترکہ ٹیمیں تجاوزات اور جھگیوں کے خلاف گرینڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو کوڑا کرکٹ سے پاک رکھنے اور شہریوں میں صفائی کے شعور کو بڑھانے کے لیے مہم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟

ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ شہر کو زیرو ویسٹ ماڈل پر لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ بھی شہر کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ تجاوزات قائم کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ لاہور کا تاریخی حسن بحال رہ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جھگیاں زیرو ویسٹ لاہور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جھگیاں زیرو ویسٹ لاہور زیرو ویسٹ

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو