گڈاپ سٹی میں ٹریفک حادثہ، بچی سمیت 2 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
گڈاپ سٹی میں ٹریفک حادثہ میں بچی سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ 2 بچیوں سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ٹریفک حادثہ ہائی ایس وین اور ٹرالر کے درمیان ہوا۔ گڈاپ سٹی کے ہیڈر محرر غلام عمیر نے بتایا کہ گڈاپ سٹی تھانہ کی حدود میں کراچی سے حیدرآباد جانے والے روڈ نزد کاٹھوڑ پل ملک اقبال ہوٹل ایم نائن موٹروے پر ہائی ایکس وین اور ٹرالر کے درمیان تصادم ہوگیا۔
حادثہ میں بچی سمیت 2 افراد جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 9 سالہ ناہید دختر محمد نوید اور 55 سالہ خلیل احمد ولد فرحان احمد کے ناموں سے ہوئی جبکہ زخمیوں میں7 سالہ نوشین دختر محمد نوید، 20 سالہ حسن ولد غلام مصطفیٰ، 55 سالہ محمد داؤد ولد تاج ، 7 سالہ مریم دختر محمد احمد اور 26 سالہ امبرین زوجہ عادل اعوان شامل ہیں۔
ترجمان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ساؤتھ زون کراچی کے مطابق موٹروے ایم-9 پر کاٹھور کے قریب ٹریفک حادثہ میں ہائی ایس وین نے پیچھے سے ٹریلر کو ٹکر ماری۔ حادثہ وین ڈرائیور کی غفلت و لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔
حادثہ میں زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کیاگیا۔ حادثے کے بعد دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور موقع سے فرار ہو گئے۔ موٹروے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑیاں سڑک سے ہٹا کر ٹریفک بحال کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گڈاپ سٹی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔