اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کیلئے سفارتی استثنیٰ ختم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے انروا کے لیے سفارتی استثنیٰ ختم کرنے سے متعلق قانون کی منظوری دے دی، جس کے بعد اس ادارے کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں قانونی کارروائی ممکن ہو جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں واقع انروا کے دو دفاتر ضبط کر سکیں گے، جبکہ اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے سے بھی روک دیا جائے گا۔
اس حوالے سے انروا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے اس ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ انروا پورے مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل گزشتہ سال ہی انروا پر پابندی عائد کر چکا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔