حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 300 ملین ڈالر سے زیادہ کے دو منصوبوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 304.5 ملین ڈالر کے دو منصوبوں پر دستخط ہو گئے ہیں، جن کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے
ترجمان اقتصادی امور نے بتایا کہ ان منصوبوں میں 180.5 ملین ڈالر کا سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پراجیکٹ اور 124 ملین ڈالر کا پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ اور زرعی میکانائزیشن پراجیکٹ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی صرف 20 فیصد آبادی کو صاف پانی نصیب، ایشیائی ترقیاتی بینک
معاہدوں پر سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایمافان نے دستخط کیے، جبکہ سندھ اور پنجاب حکومت کے نمائندوں نے متعلقہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے دستخط کیے۔
سندھ کوسٹل ریزیلینس پراجیکٹ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک 140 ملین ڈالر قرض اور 0.
کنٹری ڈائریکٹر اے ڈی بی نے کہاکہ یہ منصوبہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے اور ساحلی آبادیوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ پراجیکٹ پنجاب کے 30 اضلاع میں زرعی پیداوار اور ماحولیاتی لچک کو فروغ دے گا۔
اس منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک 120 ملین ڈالر قرض اور 4 ملین ڈالر گرانٹ فراہم کرے گا جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی 5 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 33 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی
سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق منصوبے کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو کلائمیٹ اسمارٹ زرعی مشینری تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔
کنٹری ڈائریکٹر اے ڈی بی نے کہاکہ یہ منصوبہ زراعت کی جدید کاری اور اخراج میں کمی کے لیے ایک نہایت اہم قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایشیائی ترقیاتی بینک حکومت پاکستان معاہدوں پر دستخط وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیائی ترقیاتی بینک حکومت پاکستان معاہدوں پر دستخط وی نیوز ایشیائی ترقیاتی بینک ملین ڈالر کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔