چیف جسٹس پاکستان کا تھرپارکر کے مندروں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھرپارکر: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سندھ کے ضلع تھرپار کر پہنچ گئے، مندروں کا دورہ کیا اور انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام کا جائزہ لیا۔
اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاءاینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے فیلڈ وزٹ کیا، چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی تھے۔
یہ دورہ آئین میں دی گئی مساوات، شمولیت اور پرامن بقائے باہمی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ننگرپارکر کے سول کورٹ کمپلیکس میں عدالتوں کے کام کا معائنہ کیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی وقار کے لیے عوامی سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے خواتین سہولت مرکز، صاف پانی، سولرائزیشن اور ای لائبریری کی سہولتوں کو سراہا۔
اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سے انٹرایکٹو ملاقات ہوئی، ملاقات میں موثر انصاف کے لیے بینچ اور بار کے تعمیری تعاون پر زور دیا گیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کاسبو مندر، چوریو جبل درگا ماتا مندر کا بھی دورہ کیا، دورے کے دوران مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے مٹھی ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس میں عدالتی امور کا جائزہ لیا، چیف جسٹس پاکستان نے کیس مینجمنٹ، انفراسٹرکچر اور خواتین دوست سہولتوں کا معائنہ کیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے رسائی، صفائی اور فعالیت سے متعلق خلا کی نشاندہی دستاویزی شکل میں کرنے کی ہدایت کی۔
یہ دورہ لاءاینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے اصلاحاتی اور فیلڈ بیسڈ عمل کا حصہ ہے۔
Faiz alam babar
ویب ڈیسک
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس پاکستان نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔